وزیراعظم نےچینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنےکیلئے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی

وزیراعظم نےچینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنےکیلئے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں چینی کے شعبے (شوگر سیکٹر) کو جدید خطوط پر استوار کرنے، شفاف بنانے اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔

 اس کمیٹی کا بنیادی مقصد شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ (یعنی سرکاری پابندیوں اور کنٹرول سے آزاد) کرنے کے لیے قابل عمل تجاویز تیار کرنا ہے۔

 کمیٹی کے بنیادی نکات:
کمیٹی کا مینڈیٹ: شوگر انڈسٹری میں اصلاحات، نجکاری کے امکانات، اور مارکیٹ کے طریقہ کار کو بہتر بنانا۔
رپورٹ کی مدت: کمیٹی کو 30 روز میں اپنی حتمی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنی ہے۔
پالیسی سفارشات: چینی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے نمٹنے اور صارفین کے تحفظ کے لیے پالیسی سازی۔
شعبے میں شفافیت: ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت اور قیمتوں کے بحران جیسے مسائل کی روک تھام۔
 ڈی ریگولیشن کا مطلب:
ڈی ریگولیشن سے مراد حکومت کی جانب سے چینی کی قیمت، سپلائی، سبسڈی اور ایکسپورٹ/امپورٹ پر براہ راست کنٹرول کم کرنا یا ختم کرنا ہے تاکہ مارکیٹ خود کار نظام کے تحت کام کرے اور مسابقت بڑھے۔

 پس منظر:
پاکستان میں ہر سال چینی کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے صارفین اور حکومت دونوں کو مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ شوگر ملز، کاشتکار، ذخیرہ اندوز اور حکومتی پالیسی میں ہم آہنگی کی کمی سے یہ شعبہ مسلسل بحران کا شکار رہا ہے۔

 ممکنہ اصلاحات میں شامل ہو سکتے ہیں:
چینی کی قیمت مارکیٹ کے مطابق مقرر ہونے دینا
سبسڈی اور کوٹہ سسٹم کا خاتمہ
کسانوں کو بروقت ادائیگی یقینی بنانا
شوگر ملز کی مانیٹرنگ میں شفاف ڈیجیٹل نظام
درآمد و برآمد کے ضوابط میں سادگی
ماہرین کا ردعمل:
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈی ریگولیشن صحیح طریقے سے عمل میں لائی گئی تو یہ قدم چینی کی قیمتوں میں استحکام، شفافیت، اور صارفین کو ریلیف دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، حکومت کو اس عمل میں مافیاز اور ذخیرہ اندوزوں پر بھی کڑی نظر رکھنی ہو گی تاکہ اس اقدام کا فائدہ عام عوام تک پہنچ سکے۔