ویب ڈیسک: لاہور کے تاریخی علاقے اندرون اکبری گیٹ میں واقع محلہ خرادیہ میں خستہ حال عمارت کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے تین افراد جاں بحق ہو گئے۔
واقعہ نے علاقے میں کہرام مچا دیا، جبکہ امدادی کارروائیاں رکاوٹوں کے باوجود 12 گھنٹے تک جاری رہیں۔
واقعے کی تفصیلات
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ گزشتہ شب اس وقت پیش آیا جب خستہ حال تین منزلہ عمارت کی چھت اچانک منہدم ہو گئی۔ حادثے کے نتیجے میں ملبے تلے:
60 سالہ بزرگ خاتون ثمینہ
35 سالہ حسن (بیٹا)
5 سالہ بچہ رجب (نواسا)
دب کر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ تینوں افراد آپس میں ماں، بیٹا اور نواسا تھے اور ذوالفقار نامی شہری کے قریبی اہل خانہ تھے۔
ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات
ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے 12 گھنٹوں پر محیط طویل اور پیچیدہ آپریشن کے بعد تمام لاشوں کو ملبے سے نکالا۔ ذرائع کے مطابق امدادی کارروائیوں کو تنگ و تاریک گلیوں، خستہ حال عمارتوں اور لٹکتی بجلی کی تاروں کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
حادثے سے قبل بچ جانے والے افراد
واقعے کے وقت گھر کے سربراہ ذوالفقار اور ان کی بیٹی ارم گھر پر موجود نہیں تھے، دونوں کام کے سلسلے میں چند لمحے قبل ہی گھر سے روانہ ہوئے تھے، یوں وہ اس المناک حادثے سے محفوظ رہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ذوالفقار کی بیوی، بیٹا اور نواسا شامل ہیں۔
اہل علاقہ کا احتجاج، انتظامیہ سے اقدامات کا مطالبہ
حادثے کے بعد علاقے میں افسوس اور غم کی فضا طاری ہے۔ اہل علاقہ نے بتایا کہ عمارت کافی عرصے سے خستہ حال تھی، اور متعلقہ محکموں کو متعدد بار اس کی حالت کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا، مگر کسی نے نوٹس نہ لیا۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ، ایل ڈی اے اور بلدیاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اندرون لاہور میں موجود تمام بوسیدہ اور خطرناک عمارتوں کا فوری سروے کیا جائے اور آباد علاقوں میں موجود خستہ حال عمارات کو خالی کرا کے مرمت یا انہدام کے اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔
پس منظر: اندرون لاہور کی بوسیدہ عمارتیں — ایک مسلسل خطرہ
اندرون شہر لاہور کی بیشتر عمارتیں صدیوں پرانی ہیں، جن میں سے کئی کی حالت نہایت ابتر ہے۔ بارش، نمی، اور وقت گزرنے کے ساتھ ان کی بنیادیں کمزور ہو چکی ہیں۔ اکثر علاقوں میں تنگ گلیاں اور پیچیدہ انفراسٹرکچر نہ صرف رہائشیوں بلکہ ریسکیو اداروں کے لیے بھی خطرہ بن چکا ہے۔