اسلام آباد ہائی کورٹ: نجی اسکولوں میں 10% مفت تعلیم کوٹے پر عملدرآمد کی رپورٹ جمع

اسلام آباد ہائی کورٹ: نجی اسکولوں میں 10% مفت تعلیم کوٹے پر عملدرآمد کی رپورٹ جمع

اسلام آباد ہائی کورٹ میں نجی اسکولوں میں 10 فیصد مفت تعلیم کے کوٹے پر عمل درآمد سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران رپورٹ جمع کروائی گئی ہے۔

یہ رپورٹ پرائیویٹ ایجوکیشن انسٹیٹیوشن ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد کے پانچ زونز میں مجموعی طور پر 1571 نجی تعلیمی ادارے فعال ہیں، جن میں تقریباً 3 لاکھ 89 ہزار طلباء زیر تعلیم ہیں۔ اب تک، 500 نجی اسکولوں نے اپنے انفراسٹرکچر اور طلباء کے ڈیٹا جمع کروایا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ "نو چائلڈ لیفٹ بی ہائنڈ" مہم کے تحت 25 ہزار بچوں کو اسکولوں میں داخلہ دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ قانون کے مطابق، یتیم اور شہداء کے بچوں کو 10 فیصد اسکالرشپ اسکیم میں ترجیح دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، نجی اسکولوں میں رائٹ ٹو فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ 2012 پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ پیرا نے نجی اسکولوں میں مفت تعلیم کے کوٹے کی تصدیق کے لیے مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی ہے، اور متعدد اسکولوں نے 10 فیصد کوٹے کے تحت مفت تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی فہرستیں جمع کروا دی ہیں۔ ڈیٹا کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔ 
رپورٹ کے مطابق، پیرا تمام رجسٹرڈ نجی تعلیمی اداروں کو 10 فیصد مفت تعلیم کے کوٹے پر عمل درآمد کا حکم دے چکی ہے۔ اسکولوں سے 2025-26 کے تعلیمی سیشن کے لیے اسکالر شپ پر زیر تعلیم طلباء کا ڈیٹا فوری طلب کیا گیا ہے، اور ڈیٹا جمع نہ کروانے والے اسکولوں کے خلاف پیرا ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ نجی اسکولوں کو مینوئل اور آن لائن پورٹل دونوں کے ذریعے تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، اور رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ کی تجدید کو 10 فیصد نیڈ بیسڈ اسکالرشپ پالیسی سے مشروط کیا گیا ہے۔