پاکستان میں انٹرنیٹ مکمل طور پر فعال ہے:شزا فاطمہ خواجہ

پاکستان میں انٹرنیٹ مکمل طور پر فعال ہے:شزا فاطمہ خواجہ

وزیرِ مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس بات کی وضاحت کی کہ ملک میں انٹرنیٹ مکمل طور پر فعال ہے اور تمام موبائل ایپلیکیشنز بشمول واٹس ایپ چل رہی ہیں۔

 پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری کی طرف سے یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کے مسائل کب تک حل ہوں گے، جس کا شزا فاطمہ خواجہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ملک میں انٹرنیٹ سروسز معمول کے مطابق جاری ہیں۔شزا فاطمہ نے مزید کہا کہ 2023 کے دوران آئی ٹی کے شعبے میں 28 فیصد اضافہ ہوا ہے اور 1.8 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کی جاچکی ہے، جو کہ ملک کے معاشی استحکام کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے۔انہوں نے اس بات کی بھی اطلاع دی کہ پاکستان میں سب میرین کیبل کی اپ گریڈیشن پر کام ہو رہا ہے، جس کے ذریعے سینٹرل ایشیا اور چین سے پاکستان کو انٹرنیٹ ڈیٹا کی فراہمی کی سہولت حاصل ہو گی۔

اس کے علاوہ، انہوں نے بتایا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے آئی پی رجسٹریشن کی باضابطہ شروعات کر دی ہے، اور ملک میں وی پی این اور آئی پی رجسٹریشن بغیر کسی معاوضے کے کی جا رہی ہے۔اب تک کمپنیوں اور فری لانسرز کے 31 ہزار سے زائد وی پی این رجسٹر کیے جا چکے ہیں، جو کہ پاکستان کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے۔ اس سے نہ صرف انٹرنیٹ کی سہولتوں کو بہتر بنایا جا رہا ہے بلکہ کاروباری اداروں اور فری لانسرز کو جدید ترین سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔