ویب ڈیسک: وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ نے کہا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ پاکستان کو ڈیجیٹل حب کی حیثیت دی جائے اور اگلے تین سال کے دوران فائبر نیٹ کو 60 فیصد تک لے جایا جائے۔
حیدرآباد میں نیشنل انکوبیشن سینٹر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے میں نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ اسٹارٹ اپس اور نوجوانوں کے لیے فنڈ ریزنگ کے حوالے سے وزیرِاعظم کی خصوصی ہدایات ہیں۔ آئی ٹی کے فروغ کے لیے ہیومن ریسورسز کو بڑھایا جا رہا ہے اور انفرا اسٹرکچر کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں 8 انکوبیشن سینٹرز کام کر رہے ہیں، اور صرف حیدرآباد سے ایک ارب سے زائد کے اسٹارٹ اپس قائم ہوئے ہیں۔ ہر سال تین لاکھ سے زائد نوجوان تربیت حاصل کر کے اسٹارٹ اپس شروع کر رہے ہیں۔ مختلف یونیورسٹیز سے الحاق اور آئی کلاؤڈ پر کام بھی جاری ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل ایکٹ کی منظوری کا مقصد ڈیجیٹل سسٹم کی جانب بڑھنا ہے، تاکہ عام عوام کی زندگی میں تبدیلی لائی جا سکے۔ ہر شعبہ زندگی میں ڈیجیٹلائزیشن کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور نادرا کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے، جس سے ہر شخص کا ڈیٹا محفوظ رہے گا۔شزا فاطمہ نے یہ بھی کہا کہ خریداری کرنے والے افراد کا ڈیٹا ریوینیو میں استعمال نہیں ہوتا، اور آنے والے وقت میں گرین انیشیٹو کے تحت زراعت میں بھی ڈیجیٹلائزیشن متعارف کرائی جائے گی۔