برطانیہ میں اپنی 10 سالہ بیٹی سارہ شریف کے قتل کے جرم میں سزا پانے والے والدین، عرفان شریف اور بینش بتول نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق یہ اپیل ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں کی گئی۔سارہ شریف کی موت کے حوالے سے میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کے والد، عرفان شریف نے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اپنی بیٹی کی جان بچانے اور ایمبولنس منگوانے کی بھرپور کوشش کی تھی، لیکن انہیں بتایا گیا کہ "چھوڑ دو، وہ مر چکی ہے"۔سارہ شریف کی لاش 2023ء کی 10 اگست کو برطانیہ کے ووکنگ علاقے میں ایک گھر سے ملی تھی۔ اس کے جسم پر تشویشناک نوعیت کے زخم تھے۔ عدالت میں پیش کردہ شواہد کے مطابق سارہ شریف کو اس کے والد اور سوتیلی والدہ نے قتل کیا تھا، جس کے بعد دونوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
عرفان شریف کو کم از کم 40 سال کی سزا اور بینش بتول کو کم از کم 33 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم، ان دونوں نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے، جس کی سماعت کے لیے تاریخ کا تعین ابھی تک نہیں کیا گیا۔سارہ شریف کے قتل کی اس کیس میں عالمی سطح پر بھی گہری تشویش پائی گئی تھی، اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس نوعیت کے جرائم کے خلاف سخت کارروائی کی اپیل کی تھی۔