کریڈٹ کارڈ فراڈ کا شکار اسکول مالک: جعلسازوں نے لاکھوں روپے لوٹ لیے

کریڈٹ کارڈ فراڈ کا شکار اسکول مالک: جعلسازوں نے لاکھوں روپے لوٹ لیے

بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور کے رہائشی دیویندر کمار کو ایک جعلساز گروہ نے کریڈٹ کارڈ کی معلومات حاصل کرنے کے لیے فراڈ کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ان کے اکاؤنٹس سے لاکھوں روپے نکال لیے گئے۔

فراڈ کا طریقہ:
فون کال کا فراڈ:
دیویندر کمار کو یکم دسمبر کو ایک فون کال موصول ہوئی، جس میں جعلساز نے اپنا تعارف بینک آفیسر کے طور پر کروایا۔ملزم نے کہا کہ کریڈٹ کارڈ کی تصدیق اور اپ ڈیٹ کے لیے ان سے معلومات کی ضرورت ہے، اور اگر وہ اپ ڈیٹ نہ کریں تو ان کا کارڈ بلاک کر دیا جائے گا۔ان کی دھوکہ دہی کے طریقے میں ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کرانے کا بھی عمل شامل تھا، جس کے ذریعے ملزم نے دیویندر کمار کے موبائل فون کو ہیک کر لیا۔
رقم کا تبادلہ:
اس فراڈ کے ذریعے ملزم نے 89 ہزار 872 روپے ان کے اکاؤنٹ سے منتقل کیے، اور مزید 50 لاکھ روپے کرنٹ اکاؤنٹ اور 95 ہزار روپے اسکول اکاؤنٹ سے نکال لیے۔اس کے بعد، جعلساز نے دیویندر کمار کا موبائل فون ری سیٹ کر دیا تاکہ ان کی مزید معلومات تک رسائی حاصل نہ ہو سکے۔
پولیس کارروائی:
شکایت اور تحقیقات:
دیویندر کمار نے فوری طور پر پولیس میں شکایت درج کروائی۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔تاہم، ابھی تک جعلساز کا سراغ نہیں لگایا جا سکا ہے۔
خطرات اور احتیاط:
یہ واقعہ یہ واضح کرتا ہے کہ کس طرح جعلساز موبائل فون اور کریڈٹ کارڈ کی معلومات حاصل کرکے صارفین کو لاکھوں کا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر:
صارفین کو ایسے فون کالز سے احتیاط برتنی چاہیے اور کسی بھی غیر متعلقہ ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔بینک یا کسی بھی مالی ادارے سے ایسی کوئی معلومات طلب کرنے والے افراد کی تصدیق ہمیشہ کرنی چاہیے۔کریڈٹ کارڈ اور موبائل ہیکنگ کے فراڈ کی یہ مثال صارفین کو آگاہ کرنے کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ اپنی مالی معلومات کے تحفظ میں زیادہ محتاط رہیں۔