سندھ ہائی کورٹ نے کریڈٹ کارڈ بنانے والی خاتون سے زیادتی اور نازیبا ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے سے متعلق اہم حکم جاری کیا ہے۔
عدالت نے سوشل میڈیا سے خاتون کی ویڈیوز اور تصاویر ہٹانے اور آئی جی پولیس کو عدالتی حکم کی نقول بھیجنے کا حکم دیا ہے۔سماعت کے دوران، ایس پی انویسٹی گیشن کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزم زونیب کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے گئے، مگر وہ تاحال گرفتار نہیں ہوا۔ درخواست گزار کے وکیل قمر عباس ایڈووکیٹ نے نشاندہی کی کہ مفرور ملزم نے مزید تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی ہیں، مگر پولیس نے نہ تو ملزم کو گرفتار کیا اور نہ ہی نازیبا ویڈیوز ہٹائیں۔ایس پی انویسٹی گیشن نے تفتیش میں دلچسپی نہ لینے کا اعتراف کیا، جس پر عدالت نے اظہار برہمی کیا اور ریمارکس دیے کہ پولیس تفتیش سے انکار نہیں کرسکتی۔
عدالت نے حکم دیا کہ تفتیش ایڈیشنل آئی جی کی ذاتی نگرانی میں مکمل کی جائے، ملزم اور سہولتکاروں کو گرفتاری یقینی بنائی جائے، اور ناکام پولیس افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ سوشل میڈیا سے خاتون کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر ہٹائی جائیں اور اس حوالے سے حکمنامے کی نقول آئی جی سندھ کو بھیج دی جائیں۔ درخواست میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا تھا کہ ملزمان نے خاتون کو ٹیپو سلطان کے علاقے میں بلا کر زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔