1300 آڈیشنز کے بعد ’دھریندر‘ کی ہیروئن سارہ ارجن کا انتخاب کیوں کیا گیا؟

1300 آڈیشنز کے بعد ’دھریندر‘ کی ہیروئن سارہ ارجن کا انتخاب کیوں کیا گیا؟

حال ہی میں ریلیز ہونے والی پاکستان مخالف بھارتی پروپیگنڈا فلم ’دھریندر‘ نے باکس آفس پر غیر معمولی کامیابی حاصل کر لی ہے۔

 فلم نے محض 10 دن میں بھارتی باکس آفس پر 350 کروڑ روپے سے زائد کی کمائی کر لی، جبکہ عالمی سطح پر اس کی مجموعی آمدنی 500 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔فلم کی کامیابی کے ساتھ ساتھ اس کی اسٹار کاسٹ بھی ناظرین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر اداکار رنویر سنگھ اور 20 سالہ سارہ ارجن کی جوڑی اور ان کی کیمسٹری کو بے حد پسند کیا جا رہا ہے۔عمر کے نمایاں فرق پر اٹھنے والے سوالات کے جواب میں کاسٹنگ ڈائریکٹر مکیش چھابڑا نے وضاحت کی کہ فلم کی کہانی کے مطابق رنویر سنگھ کا کردار حمزہ ایک کم عمر خاتون کو اپنے اثر میں لانے کی کوشش کرتا ہے، اس لیے مرکزی کردار کے لیے 20 سے 21 سال کی اداکارہ کا انتخاب ناگزیر تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمر کے فرق سے متعلق مزید وضاحت ’دھریندر پارٹ 2‘ میں سامنے آئے گی۔

فلم کے لیے تقریباً 1,300 لڑکیوں کے آڈیشن لیے گئے، تاہم سارہ ارجن ابتدا ہی سے نمایاں نظر آئیں۔ ٹیم ایک نیا اور غیر مانوس چہرہ متعارف کرانا چاہتی تھی، جبکہ ہدایتکار ادیتیا دھر نئے ٹیلنٹ کو موقع دینے کے حامی تھے، جس کی بنیاد پر سارہ کو مرکزی کردار سونپا گیا۔مکیش چھابڑا نے سارہ ارجن کی محنت اور لگن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ معصوم چہرے کے پیچھے وہ ایک طاقتور اداکارہ ہیں، اور فلم کے دوسرے حصے میں ان کی اداکاری کی اصل صلاحیت سامنے آئے گی جہاں وہ ایک زیادہ مضبوط کردار میں دکھائی دیں گی۔واضح رہے کہ ’دھریندر پارٹ 2‘ کی ریلیز 19 مارچ 2026 کو متوقع ہے۔