پشاور(آن لائن) پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف رہنماؤں کی جانب سے حفاظتی ضمانت حاصل کرنے سے متعلق درخواستوں پر چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیاہے جس میںعدالت نے درخواست گزاروں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کو کسی بھی صورت احتجاج یا ریاست مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ کریں۔ عدالتی ریلیف قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی استعمال کیا جانا چاہیے، بصورت دیگر سخت قانونی نتائج بھگتنا ہوں گے۔عدالت عالیہ نے وفاقی پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے حفاظتی ضمانت کے کیسز کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کی گئی۔پشاور ہائیکورٹ نے اس معاملے کو لارجر بنچ کے قیام کے لیے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو ارسال کرنے کا حکم دے دیا ہیتحریری فیصلے کے مطابق وفاقی پراسیکیوٹر جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک ہی نوعیت کے ریلیف کے لیے درخواست گزار بار بار عدالت سے رجوع کر رہے ہیں، جو عدالتی عمل کے غلط استعمال کے مترادف ہے، فیصلے میں یہ اعتراض بھی سامنے آیا کہ پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر حفاظتی ضمانت حاصل کرنے کے باوجود متعلقہ عدالتوں میں پیش نہیں ہوتے