سوشل میڈیا پر ایک ایسی کہانی وائرل ہو رہی ہے جو معاشرتی روایات کے خلاف ایک نیا پیغام دے رہی ہے۔
یہ کہانی ایک ایسی خاتون کی ہے جو کم عمری میں سنگل مدر بن گئی تھیں اور اپنے دو بیٹوں کی بہترین پرورش کی۔ ان بیٹوں نے اپنی والدہ کی اکیلے پن کو سمجھتے ہوئے اس کی دوسری شادی کرانے کا فیصلہ کیا، تاکہ وہ اپنی زندگی کو ایک اور موقع دے سکیں۔یہ کہانی اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ہمارے معاشرتی رویے میں دوسری شادی کو عام طور پر قبول نہیں کیا جاتا۔ مردوں کی دوسری شادی کو تو ایک معمول سمجھا جاتا ہے، مگر عورتوں کے لیے یہ ایک معیوب عمل سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، اس خاندان کی کہانی ایک نئے سوچ کو جنم دے رہی ہے، جس میں بیٹوں نے معاشرتی دباؤ اور روایات کو پس پشت ڈال کر اپنی والدہ کو زندگی کے ایک اور موقع پر خوش دیکھنے کی کوشش کی۔
اس خوبصورت اور جذباتی موقع کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں، اور صارفین اس خاندان کی سوچ کی تعریف کر رہے ہیں۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا، ’’رشتہ دار ہار گئے، تربیت جیت گئی‘‘، اور دوسرے صارفین نے بھی اس عمل کو مثالی قرار دیا، جہاں بیٹوں نے اپنی ماں کو وہ خوشی دی جو وہ اپنے لئے نہیں چاہ سکتے تھے۔یہ کہانی ایک پیغام دیتی ہے کہ اگر کسی وجہ سے کسی عورت کی زندگی میں اکیلا پن آ جائے تو اسے بھی دوسری شادی کا حق ہے اور اسے معاشرتی روایات کے مطابق نہیں، بلکہ اپنی خوشی کی خاطر زندگی کو دوبارہ جینے کا حق ملنا چاہیے۔