برطانیہ کے تعاون سے پاکستان کے معدنی شعبے میں جدید صلاحیت سازی پروگرام کا آغاز

برطانیہ کے تعاون سے پاکستان کے معدنی شعبے میں جدید صلاحیت سازی پروگرام کا آغاز

پاکستانی معدنی شعبے کو مضبوط بنانے اور سی فوڈ کی روس کو برآمدات کے امکانات بڑھانے کے لیے اسلام آباد میں برطانیہ کے تعاون سے جدید کپیسیٹی بلڈنگ پروگرام کا افتتاح کیا گیا ہے۔

 اس اہم اقدام کے تحت، جیو سائنس ایڈوانسڈ ریسرچ لیبارٹریز میں وسائل و توانائی اور نقشہ سازی کے پروگرام (REMIT) کا اجرا ہوا ہے، جو اپریل 2026 تک جاری رہے گا۔اس پروگرام کا مقصد جیولوجیکل سروے آف پاکستان کی تکنیکی صلاحیت کو عالمی معیار کے مطابق بہتر بنانا ہے۔ تربیتی سرگرمیوں میں ڈیجیٹل جیولوجیکل سروے، ریموٹ سینسنگ، جیوکیمیکل اور جیو فزیکل تجزیہ، اور جغرافیائی معلوماتی نظام شامل ہیں، جن کی لاگت تقریباً 5 لاکھ ڈالر ہے۔ اس سے ڈیٹا کے معیار میں بہتری آئے گی اور معدنی تلاش کے خطرات میں کمی ہوگی۔
وفاقی وزیر توانائی علی پرویز ملک نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی معدنی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے جیوسائنسی استعداد کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ جدید اور قابلِ اعتماد ڈیٹا پاکستان کی معدنی صلاحیت کے مؤثر استعمال کے لیے ضروری ہے۔ مشیر وزیر توانائی ڈاکٹر حامد اشرف کے مطابق، اس پروگرام سے معدنی وسائل کی بہتر جانچ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق سروے ممکن ہوگا۔اس اشتراک سے پاکستان اور برطانیہ کا معدنی شعبہ پائیدار ترقی، سرمایہ کاری اور معاشی بہتری کی راہ پر گامزن ہوگا۔