تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس دشمن کے خلاف طویل جنگ جاری رکھنے کے لیے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ملک نے جنگی حالات میں اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے اور ہتھیاروں کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنے کی صلاحیت حاصل کر رکھی ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر فوجی محاذ آرائی طویل عرصے تک جاری رہتی ہے تو بھی ایران اپنی دفاعی ضروریات کے لیے اسلحہ تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ایران جنگی صورتحال میں اپنے دفاعی وسائل اور ہتھیاروں کی پیداوار کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔ایران کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث دفاعی تیاریوں سے متعلق بیانات کو اہمیت حاصل ہے۔
تہران کے اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حکام طویل فوجی محاذ آرائی کی صورت میں اسلحے کی فراہمی اور دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔ تاہم، ایران کی اسلحہ سازی کی حقیقی صلاحیت، پیداواری حجم اور طویل جنگ کے دوران ہتھیاروں کی مسلسل فراہمی سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کے لیے مزید معلومات درکار ہیں۔دفاعی ماہرین کے نزدیک کسی بھی طویل جنگ میں صرف اسلحے کی پیداوار ہی نہیں بلکہ خام مال کی دستیابی، صنعتی ڈھانچے، رسد کے نظام اور مالی وسائل کی اہمیت بھی بنیادی ہوتی ہے۔ اس لیے ایران کی جانب سے کیا گیا یہ دعویٰ خطے کی موجودہ صورتحال میں اس کے دفاعی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، تاہم اس کی عملی صلاحیت کا اندازہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ہی لگایا جا سکتا ہے۔