پاکستان کے معدنی شعبے میں نمایاں پیشرفت: ریکو ڈک منصوبہ کامیابی کی مثال

پاکستان کے معدنی شعبے میں نمایاں پیشرفت: ریکو ڈک منصوبہ کامیابی کی مثال

پاکستان کے معدنی شعبے میں عالمی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری اور وژن پاکستان کا کردار نمایاں ہے۔

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں معدنیات اور توانائی، سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون پر اتفاق کیا گیا۔کینیڈین ہائی کمشنر نے برک گولڈ کی ریکو ڈک پروجیکٹ میں کامیابی کو پاکستان اور کینیڈا کے معدنی تعاون کے لیے مضبوط بنیاد قرار دیا اور پاکستان میں معدنی شعبے کی ترقی کے لیے کمپنیوں کی شمولیت اور پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں حصہ لینے کا اعادہ کیا۔ کینیڈا کی جانب سے پاکستان کو دنیا کی سب سے بڑی معدنیاتی کانفرنس ’’پراسپیکٹرز اینڈ ڈیولپرز ایسوسی ایشن آف کینیڈا 2026‘‘ میں شرکت کی دعوت دی گئی، جس سے پاکستان کی معدنی صلاحیت کو عالمی سرمایہ کاروں سے متعارف کرانے اور دوطرفہ تعاون کے فروغ میں مدد ملے گی۔ریکو ڈک پروجیکٹ نہ صرف پاکستان کی اہم سرمایہ کاری میں شمار ہوتا ہے بلکہ عالمی اعتماد کی علامت بھی ہے۔

 معدنی وسائل کی ترقی سے پاکستان کی معاشی خود کفالت، صنعتی وسعت اور قومی معیشت کو طویل المدتی استحکام حاصل ہوگا۔وزیرِ پیٹرولیم کے مشیر برائے جی ایس پی، ڈاکٹر حامد اشرف نے کہا کہ جیولوجیکل سروے آف کینیڈا کے ساتھ اشتراک سے نقشوں کی درستگی عالمی معیار کے مطابق تیار کی جائے گی، اور تمام ٹیسٹنگ پاکستان میں ہونے سے وقت کی بچت اور ملکی ریونیو میں اضافہ ہوگا۔ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے پاکستان میں کان کنی کے شعبے کی ترقی نہ صرف قومی معیشت کے لیے اہم ہے بلکہ ملک کی ترقی اور عالمی سرمایہ کاری کے فروغ کا واضح اشارہ بھی ہے۔