عمران خان کی بہنوں کو داہگل میں پولیس ناکے پر روکا گیا

عمران خان کی بہنوں کو داہگل میں پولیس ناکے پر روکا گیا

عمران خان کی تین بہنیں اڈیالہ جیل جانے کے لیے روانہ ہوئیں، جہاں ان کا ارادہ تھا کہ وہ اپنے بھائی عمران خان سے ملاقات کریں۔

 اس ملاقات کی توقع تھی کیونکہ پارٹی قیادت کی جانب سے اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ آج ان کی ملاقات کرائی جائے گی۔

پولیس ناکہ اور روکا جانا: جیسے ہی عمران خان کی تینوں بہنیں جیل کی طرف روانہ ہوئیں، انہیں داہگل کے مقام پر پولیس ناکے پر روک لیا گیا۔ اس صورتحال میں علیمہ خان، جو عمران خان کی بہن ہیں، نے واضح طور پر احتجاج کیا اور کہا کہ اگر آج ان کی ملاقات نہیں کرائی گئی، تو وہ وہیں پر رک جائیں گی اور جیل جانے کا ارادہ ترک کر دیں گی۔ علیمہ خان نے مزید کہا کہ انہیں پہلے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ آج ان کی ملاقات ضرور کرائی جائے گی، مگر پولیس کی جانب سے روکے جانے کے بعد یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکام نے جھوٹ بولنے کی کوشش کی۔

جیل میں ملاقات کا دن: یہ واقعہ اس دن پیش آیا جب اڈیالہ جیل میں عمران خان سے پی ٹی آئی کے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں طے تھیں۔ جیل حکام کو پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے پارٹی رہنماؤں کی فہرست پہلے ہی ارسال کر دی تھی۔ فہرست میں اہم رہنماؤں جیسے کہ:

عمر ایوب (اپوزیشن لیڈر)
شبلی فراز
صاحبزادہ حامد رضا
راجہ ناصر عباس
احمد خان بچھر
زرتاج گل
کا نام شامل تھا۔

سیاسی پس منظر: عمران خان کی رہائی اور جیل میں رہتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی ملاقاتوں کا معاملہ سیاسی سطح پر ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔ عمران خان کی گرفتاری اور اس کے بعد کی سیاسی پیش رفتوں نے پاکستانی سیاست میں تنازعات کو جنم دیا ہے، اور ان ملاقاتوں کے ذریعے پی ٹی آئی نے اپنے موقف کو مزید اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ حکومتی اقدامات اور جیل میں رہ کر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ عمران خان کی ملاقاتیں، سیاسی کشمکش کا حصہ بن چکی ہیں۔

پی ٹی آئی کی نظر میں: پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنان نے اس پورے معاملے کو حکومت کے خلاف ایک نیا محاذ بنانے کے طور پر دیکھا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے مطابق، حکومتی اقدامات اور عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں میں رکاوٹ ڈالنے کا مقصد انہیں سیاسی طور پر کمزور کرنا اور ان کی جماعت کو نقصان پہنچانا ہے۔

نتیجہ: علیمہ خان اور ان کی بہنوں کا اڈیالہ جیل جانے کے دوران پولیس کی جانب سے روکا جانا اور حکام کی جانب سے ملاقاتوں کی یقین دہانی کے باوجود روکا جانا، ایک اور سیاسی تنازعے کو جنم دیتا ہے۔ اس صورتحال میں جہاں ایک طرف پی ٹی آئی اپنی سیاسی قوت دکھانے کی کوشش کر رہی ہے، وہیں حکومت پر بھی اس معاملے پر عوامی ردعمل کا سامنا ہے۔