بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے دن، نعیم پنجوتھہ اور علی محمد خان کو پولیس نے ناکے پر روک لیا

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے دن، نعیم پنجوتھہ اور علی محمد خان کو پولیس نے ناکے پر روک لیا

بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ اور رہنما علی محمد خان کو اڈیالہ جیل سے ملاقات کے لیے جانے کے دوران راولپنڈی کے داہگل پولیس ناکے پر روک لیا گیا۔

پولیس نے اڈیالہ جیل کے اطراف سخت سیکورٹی کے انتظامات کیے ہوئے ہیں، جہاں داہگل اور گھور کھپور کے مقام پر ناکے لگائے گئے اور سڑک پر ٹرک کھڑے کر دیے گئے تاکہ راستہ روکا جا سکے۔ اڈیالہ روڈ پر صرف ایک گاڑی کے گزرنے کا محدود راستہ چھوڑا گیا ہے اور اضافی پولیس نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جیل انتظامیہ کا اختیار ہے کہ ملاقات کروائی جائے یا نہیں، لیکن پنجاب پولیس کے پاس روڈ پر کسی کو روکنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ علی محمد خان نے کہا کہ ان سمیت چھ وکلاء کی فہرست جیل انتظامیہ کو دی جا چکی ہے اور اڈیالہ جیل تک جانا ان کا قانونی حق ہے، تاہم پولیس انہیں روک رہی ہے۔

علی محمد خان نے پنجاب پولیس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس "گلوبٹ" بنی ہوئی ہے اور پارلیمنٹیرین کو روکا جانا ناقابل قبول ہے۔اسی دوران وکیل نعیم پنجوتھہ نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق وکلاء کی فہرست جیل انتظامیہ کو دی گئی ہے لیکن عدالتی احکامات کے باوجود ہر بار ملاقات کے لیے جانے پر روکا جا رہا ہے۔یہ واقعہ عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر سیاسی اور قانونی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں عدالت کے احکامات کے باوجود حکومتی سطح پر رکاوٹیں ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے۔