راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ملاقات کے لیے پہنچنے والے متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کو مختلف ناکوں پر روکا گیا، جس کے باعث کسی بھی ملاقات کا امکان نہیں ہو سکا۔
آج عمران خان سے ملاقات کے لیے پی ٹی آئی کی رہنما کنول شوزب، شہناز خان، مریم کلثوم، روبینہ شاہین، مشیر وزیراعلیٰ کے پی بریگیڈیئر (ر) مصدق عباسی، محمد احمد چھٹہ اور مشیر خزانہ کے پی مزمل اسلم سمیت دیگر رہنما اڈیالہ جیل پہنچے، مگر ان میں سے کسی کی بھی عمران خان سے ملاقات نہیں ہو سکی۔مشیر خزانہ کے پی مزمل اسلم، مصدق عباسی، احمد چٹھہ، اور مبین عارف جٹ کو داہگل ناکے پر روکا گیا جبکہ پی ٹی آئی کی خاتون رہنما مریم کلثوم اکرم کو گورکھپور ناکے پر روکا گیا۔مشیر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بریگیڈیئر (ر) مصدق عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق آج میرا ساتواں چکر ہے اور جیلر کو ملاقاتیوں کی فہرست بھیجی گئی تھی، لیکن پولیس نے ہمیں تین کلو میٹر دور ناکے پر روک لیا، ملاقات سے روکنا فسطائیت کے سوا کچھ نہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "ہم عمران خان سے ہدایات لینے آئے تھے کیونکہ پی ٹی آئی کے قومی ایجنڈے پر بانی سے بات کرنا ضروری ہے، اور پی ٹی آئی ہی واحد جماعت ہے جو تمام صوبوں میں موجود ہے۔"ان کا کہنا تھا کہ "ہماری خارجہ پالیسی واضح ہے، ہمارے کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں ہیں۔ اگر کسی نے ہم پر جارحیت کی تو ہم جواب دینے میں دیر نہیں کریں گے، اس وقت ملک کو اتحاد کی ضرورت ہے اور حکومت کو قوم کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔"ان تمام تر روکے جانے کے باوجود پی ٹی آئی رہنماؤں نے ملاقات کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔