وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین گنڈاپور نے لاہور ہائی کورٹ بار میں اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کو ڈنڈے کے زور پر نہیں چلایا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست انصاف پر قائم تھی، اور اپنے لوگوں کو لانے اور عوام پر مسلط کرنے کے لیے تجربے کیے گئے۔علی امین گنڈاپور نے 2024ء کے انتخابات میں بدترین دھاندلی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ملک میں آئین کو توڑ کر مارشل لاء لگایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ سازوں کو لیڈرز نہیں غلام چاہئیں، اور اگر غلام ہمارے فیصلے کریں گے تو ہم بھی غلام ہی رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ وہ ملک کی خاطر مذاکرات کے لیے تیار ہیں، ان کا مقصد اقتدار کا حصول نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم پر تشدد کیا گیا، ہمارے لیڈر، ان کی بیوی اور ہمارے کارکن جیلوں میں ہیں، اور ہمارے 14 لوگوں کو شہید کیا گیا۔علی امین گنڈاپور نے عدلیہ سے اپیل کی کہ وہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف کیسز کو جلد ختم کرے اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جعلی کیسز میں جیل میں رکھا گیا ہے، اور ان کیسز کو آہستہ چلایا جا رہا ہے تاکہ انہیں لمبے عرصے جیل میں رکھا جا سکے، جس کا مقصد انہیں اپنے نظریے اور تحریک سے پیچھے ہٹانا ہے، لیکن ایسا کبھی نہ ہوگا۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وفاق میں حکومت عوام کا مینڈیٹ چوری کر کے بیٹھی ہوئی ہے، اور ملک میں فسطائیت کو مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم جلد فیصلہ کرنے لگی ہے کہ اگر اصلاح احوال نہ ہوا تو قوم حقیقی آزادی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے حقوق کے لیے نکلیں گے تو کشتیاں جلا کر نکلیں گے، ایسے میں نقصان ان عناصر کا ہوگا جو قوم کو غلام بنانا چاہتے ہیں۔