پشاور (ویب ڈیسک): وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر کے پاس میری حکومت گرانے کی کوئی حیثیت نہیں، وہ تو کونسلر کی سیٹ بھی نہیں جیت سکتے۔
انہوں نے یہ گفتگو پشاور میں میڈیا نمائندوں سے کی، جہاں سوات واقعے، سیاسی صورتحال اور گورنر کے حالیہ بیانات پر اپنی رائے دی۔
سوات واقعے پر کارروائی کا عندیہ
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا:"سوات واقعے کی انکوائری جاری ہے، جہاں بھی کسی کی غفلت ثابت ہوئی، سخت کارروائی کی جائے گی۔ کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا، چاہے وہ ریسکیو اہلکار ہو یا کوئی افسر۔"انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی بحران اور گورنر کی حیثیت پر تنقید
وزیراعلیٰ نے کہا:"گورنر کی وزیراعظم سے ملاقات کو سازش کہنا درست نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گورنر کے پاس کوئی سیاسی حیثیت نہیں، وہ تو الیکشن لڑ کر کونسلر بھی نہیں بن سکتے۔"
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام نے پی ٹی آئی کو خیبر پختونخوا میں بھاری مینڈیٹ دیا ہے اور حکومت گرانے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی۔
عرفان صدیقی کا ردعمل: بحران نہیں چاہتے
دوسری طرف، سینیٹر عرفان صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:"ہم کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے خیبر پختونخوا میں سیاسی بحران پیدا ہو۔ گورنر اور وزیراعظم کی ملاقات آئینی اور قانونی دائرہ کار میں ہوئی ہے۔"انہوں نے مزید کہا کہ:"عدم اعتماد جمہوری عمل کا حصہ ہے، بانی پی ٹی آئی خود اس کا شکار بنے۔ اسے سازش کہنا مناسب نہیں۔"
تجزیہ: سیاسی کشیدگی برقرار
سیاسی مبصرین کے مطابق گورنر اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے درمیان جاری لفظی جنگ آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا سکتی ہے۔ایک طرف صوبائی حکومت گورنر کے اختیارات کو چیلنج کر رہی ہے، تو دوسری جانب وفاقی حکومت اور پی ڈی ایم اتحاد خیبر پختونخوا میں عدم اعتماد کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔