پنجاب میں پیدائش اور اموات کے کمپیوٹرائزڈ سرٹیفکیٹس مزید تین سال تک مفت جاری رکھنے کے اخراجات کی منظوری دے دی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق مفت سرٹیفکیٹس کی فراہمی پر آئندہ تین برس کے دوران مجموعی طور پر 6 ارب 62 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ پہلے سال کیلئے 2 ارب روپے، دوسرے سال 2 ارب 20 کروڑ روپے جبکہ تیسرے سال 2 ارب 42 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔محکمہ خزانہ نے امپیکٹ اسیسمنٹ کے بغیر مسلسل سبسڈی جاری رکھنے پر اعتراضات اٹھائے تھے، تاہم وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر محکمہ بلدیات کے بجٹ کی منظوری دے دی گئی۔محکمہ خزانہ کے مطابق متعدد بلدیاتی ادارے پیدائش و اموات کے سرٹیفکیٹس کے اخراجات اپنے وسائل سے برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ محکمہ بلدیات کا مؤقف ہے کہ پیدائش اور اموات کا اندراج صرف آمدن کا ذریعہ نہیں بلکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔دستاویزات کے مطابق سرٹیفکیٹس کی مفت فراہمی شروع ہونے کے بعد پیدائش کے اندراج میں 4.84 فیصد جبکہ اموات کے اندراج میں 20.35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔