سندھ اور خیبرپختونخوا میں کریمین کانگو ہیمرجک فیور (CCHF) کے باعث مزید افراد جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد ملک بھر میں رواں سال اس مہلک وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہوگئی ہے۔
سندھ میں دوسری ہلاکت:
کراچی کے ضلع ملیر میں واقع ابراہیم حیدری کے رہائشی 25 سالہ ماہی گیر محمد زبیر کانگو وائرس میں مبتلا ہو کر 19 جون 2025 کو انتقال کرگئے۔ضلعی محکمہ صحت کے مطابق محمد زبیر کو 16 جون کو شدید بخار، پٹھوں میں درد، پیٹ میں تکلیف، اسہال، کھانسی، خون آنا اور ہوش میں کمی کی علامات کے ساتھ جناح اسپتال لایا گیا، جہاں کانگو وائرس کا شبہ ظاہر کیا گیا۔ مزید سہولیات کی کمی کے باعث انہیں سندھ انفیکشس ڈیزیز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دوران علاج جانبر نہ ہو سکے۔محکمہ صحت سندھ نے فوری طور پر ایکٹیو سرویلنس اور ریسپانس ٹیم متاثرہ علاقے روانہ کی، جہاں متاثرہ شخص کے قریبی افراد کی کانٹیکٹ ٹریسنگ مکمل کر لی گئی۔ اب تک کسی اور شخص میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں، تاہم علاقے میں احتیاطی تدابیر سے آگاہی دی جا رہی ہے۔
خیبرپختونخوا میں تین اموات:
دوسری جانب، خیبر پختونخوا میں کانگو وائرس کے باعث مزید دو افراد جاں بحق ہو گئے، جن کا تعلق ضلع کرک سے تھا۔ترجمان حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے مطابق اب تک تین مریض زیر علاج ہیں، جن کے لیے خصوصی آئسولیشن وارڈز قائم کیے گئے ہیں۔محکمہ صحت خیبرپختونخوا کے مطابق جاں بحق مریضوں میں دو کا تعلق کرک اور ایک کا شمالی وزیرستان سے تھا۔
مشیر صحت احتشام علی کے مطابق متاثرہ افراد کے گھروں میں کانٹیکٹ ٹریسنگ، صفائی و سینیٹائزیشن کا عمل جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عید سے قبل تمام اسپتالوں کو کانگو وائرس کے حوالے سے ایڈوائزری بھی جاری کی گئی تھی۔
ماہرین کی جانب سے انتباہ:
کریمین کانگو وائرس مویشیوں میں پایا جانے والا ایک خطرناک وائرس ہے، جو انسانوں میں متاثرہ جانور یا ٹک (چیچڑ) کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ ماہرین نے خاص طور پر عید الاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی خرید و فروخت اور قربانی کے دوران حفاظتی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔