پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال نے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے ساتھ جاری تنازع پر خاموشی توڑتے ہوئے ان پر ہراسانی، بلیک میلنگ اور دھمکیاں دینے سمیت سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
صحافی ارشاد بھٹی کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں مومنہ اقبال نے دعویٰ کیا کہ انہیں مبینہ طور پر نجی تصاویر اور دیگر ذاتی مواد سوشل میڈیا پر جاری کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں، جس کے باعث انہیں اپنی عزت اور نجی زندگی متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔اداکارہ نے بتایا کہ جب ثاقب چدھڑ ان کے گھر رشتہ لے کر آئے تو ان کے والد نے حتمی جواب دینے سے قبل کچھ وقت مانگا، تاہم چند ماہ بعد انہیں ثاقب چدھڑ کی پہلی اہلیہ کی جانب سے پیغامات موصول ہونا شروع ہوئے، جن سے انہیں مبینہ طور پر معلوم ہوا کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہیں۔مومنہ اقبال کے مطابق انہیں خدشہ تھا کہ اس صورتحال اور دباؤ کے نتیجے میں ان کے منگیتر حمزہ ان کا ساتھ چھوڑ دیں گے، تاہم ان کے بقول حمزہ مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ اداکارہ نے اپنے شوہر کی حمایت کو اس مشکل مرحلے میں اپنی بڑی طاقت قرار دیا۔انہوں نے ثاقب چدھڑ کے ساتھ مبینہ تعلق اور منگنی سے متعلق سامنے آنے والے بعض دعوؤں کو بھی مسترد کیا۔ مومنہ اقبال کا کہنا تھا کہ دونوں کی منگنی نہیں ہوئی تھی اور اگر ایسی کوئی تقریب ہوئی ہوتی تو اس کی تصاویر بھی موجود ہوتیں۔
انٹرویو کے دوران اداکارہ نے مبینہ چیٹ ریکارڈز اور دیگر دستاویزی شواہد بھی پیش کیے، جن کے ذریعے انہوں نے ثاقب چدھڑ کی جانب سے بیان کیے گئے تعلق اور رابطوں کے ٹائم لائن سے متعلق مؤقف کو چیلنج کیا۔مومنہ اقبال نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ تنازع کے پیچھے ان کا مقصد ثاقب چدھڑ سے رقم حاصل کرنا تھا۔ ان کے مطابق وہ مالی تصفیے کے بجائے معاملے کی حقیقت عوام کے سامنے لانا چاہتی تھیں۔ تاہم مالی معاملات سے متعلق دونوں فریقوں کے مؤقف میں اختلاف برقرار ہے۔واضح رہے کہ معاملے میں قانونی پیش رفت بھی جاری ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق 3 ستمبر کو نئے ڈیجیٹل شواہد سامنے آنے کے بعد این سی سی آئی اے نے مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ دونوں کو تازہ نوٹس جاری کیے اور نئے مواد سمیت سابقہ تحقیقات کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔تحقیقاتی ٹیم کو تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو پیش کرنے کیلئے ایک ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔