ویب ڈیسک: حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اعلان پر شہریوں نے ملے جلے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔
کچھ شہریوں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے، تاہم بیشتر کا کہنا ہے کہ 5 روپے فی لیٹر کمی مہنگائی کے بوجھ میں کوئی نمایاں ریلیف فراہم نہیں کر سکے گی۔عوامی رائے کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 66 پیسے فی لیٹر کمی اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے، کم از کم 50 روپے فی لیٹر کمی کی جائے تاکہ مہنگائی زدہ عوام کو حقیقی ریلیف حاصل ہو۔دوسری جانب کچھ شہریوں نے کہا کہ حکومت کا یہ قدم اچھی شروعات ہے، مگر مستقل ریلیف کے لیے قیمتوں میں مزید کمی ناگزیر ہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق:
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 66 پیسے کمی کے بعد نئی قیمت 263 روپے 2 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی۔
ڈیزل کی قیمت میں 1 روپیہ 39 پیسے کمی کے بعد نئی قیمت 275 روپے 41 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔
مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے 26 پیسے کمی کے بعد نئی قیمت 181 روپے 71 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی۔
لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 2 روپے 74 پیسے کمی کے بعد نئی قیمت 162 روپے 76 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
یہ کمی آئندہ 15 روز کے لیے مؤثر ہوگی۔