پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد شہریوں کا ملا جلا ردعمل سامنے آگیا۔
شہریوں نے حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل سستا کرنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں عوام کو مزید ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی سے عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ حکومت کو چاہیے کہ پٹرول کی قیمت میں مزید نمایاں کمی کرے اور اسے 250 روپے فی لیٹر مقرر کیا جائے تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔شہریوں کے مطابق پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر روزمرہ زندگی پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے، جس سے تنخواہ دار طبقے اور کم آمدنی والے افراد کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت صرف پٹرولیم مصنوعات ہی نہیں بلکہ آٹا، چینی، گھی، دالوں، سبزیوں اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی کمی یقینی بنائے تاکہ مہنگائی سے پریشان عوام کو ریلیف مل سکے۔
پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں
دوسری جانب حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کردی ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 6 روپے 59 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 346 روپے فی لیٹر مقرر ہوگئی ہے۔اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 25 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 7 نومبر 2026ء سے کیا گیا ہے اور یہ قیمتیں 10 نومبر تک برقرار رہیں گی۔ واضح رہے کہ پٹرول کی قیمت میں کمی سے موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں اور نجی گاڑیاں استعمال کرنے والوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں کمی سے مال بردار گاڑیوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔