فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدر سے ملاقات، افغان صورتحال اور دفاعی تیاریوں پر بریفنگ‘وزیراعظم کی صدر مملکت سے ملاقات میںملکی سیاسی و سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

پاکستان کے تحفظ کیلئے ہر قیمت ادا کرینگے آصف زرداری
فیلڈ مارشل  نے  افغان طالبان کے جارحانہ اقدامات پر پاک فوج کے موثرجواب سے آگاہ کیا‘آصف زرداری نے  جوابی کارروائی پر فوج کی کارکردگی کو سراہا‘ملکی تحفظ کیلئے  بیرونی دباؤ یا مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائیگا:صدر
افغان سرزمین سے پاکستانی حدود میں ہونے والے حملے انتہائی قابل مذمت ، خطے کے امن و استحکام کیلئے سنگین خطرہ لاحق ہو گیا ،   کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا: صدر مملکت کا بیان
آڈٹ رپورٹس پر موثر عمل درآمد اور بروقت اصلاحی اقدامات سے کرپشن اور مالی بے ضابطگیاں کم کی جا سکتی ہیں،  جدید ٹیکنالوجی، بشمول مصنوعی ذہانت، اپنانے سے شفافیت میں اضافہ ممکن ہے:آڈیٹرجنرل سے ملاقات میں گفتگو
اسلام آباد( آن لائن ‘مانیٹرنگ ڈیسک) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایوانِ صدر میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے اہم ملاقات کی، جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، افغان طالبان کے اشتعال انگیز اقدامات اور پاکستان کے جوابی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل نے صدرِ مملکت کو افغان طالبان اور افغان حکومت کی حالیہ جارحانہ کارروائیوں سے متعلق آگاہ کیا اور بتایا کہ پاک فوج نے مؤثر، منظم اور بھرپور ردِعمل دیتے ہوئے ملکی سرحدوں کا کامیابی سے دفاع کیا ہے۔صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، بہادری اور مکمل دفاعی تیاری پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے ملکی سرحدوں کے تحفظ اور دشمن کے کسی بھی جارحانہ اقدام کے خلاف مؤثر جوابی کارروائی پر فوج کی کارکردگی کو سراہا۔صدر مملکت نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سالمیت اور علاقائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے ، اور کسی بھی بیرونی دباؤ یا مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ملاقات میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دریں اثناء صدر نے افغان سرزمین سے پاکستانی حدود میں ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے   پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن اور تعمیری تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم کسی بھی جارحیت یا خلاف ورزی کا دوٹوک اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔  اپنے بیان میں صدر  نے کہا کہ ایسے حملے دوحہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن رہے ہیں۔ صدر نے کہا کہ  افغان طالبان حکومت دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں سے  انحراف کر رہی ہے اور  دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے، جو نہ صرف  پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرے کا باعث بن رہے ہیں۔ صدر زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان تمام ہمسایہ  ممالک کے ساتھ پرامن اور تعمیری تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم کسی بھی جارحیت یا خلاف ورزی کا دوٹوک اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔علاوہ ازیں وزیرِاعظم شہباز شریف نے بی صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات  کی‘دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں ملک کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، وزیرِاعظم نے صدرِ مملکت کو اپنے دورہ مصر اور ملائیشیا کے بارے میں آگاہ کیا۔ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، مشیر وزیر اعظم رانا ثنا اللہ، وفاقی وزرا احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، شیری رحمان و دیگر بھی شریک ہوئے۔صدر آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم شہباز شریف کی ون آن ون ملاقات بھی ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے قومی اہمیت کے معاملات پر سیاسی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ آصف علی زرداری سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان مقبول احمد گوندل کی ایوانِ صدر میں ملاقات ہوئی۔صدر مملکت نے مالی شفافیت، احتساب اور گڈ گورننس کے فروغ میں آڈیٹر جنرل کے کردار کو سراہا اور کہا کہ آڈیٹر جنرل کا آئینی کردار ملکی مالی نظم و ضبط کو مستحکم کرنے میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ آڈیٹر جنرل کے ادارے مالی وسائل کے موثر استعمال اور نظام کی بہتری میں اہم کردار ہے۔صدر مملکت نے ہدایت کی کہ محکمہ اندرونی اصلاحات اور کارکردگی میں بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے۔آصف علی زرداری نے زور دیا کہ آڈٹ رپورٹس پر مثر عمل درآمد اور بروقت اصلاحی اقدامات سے کرپشن اور مالی بے ضابطگیاں کم کی جا سکتی ہیں