یوکرین مذاکرات سے متعلق زیادہ توقعات نہیں ہیں: امریکی وزیرِخارجہ

یوکرین مذاکرات سے متعلق زیادہ توقعات نہیں ہیں: امریکی وزیرِخارجہ

مارکو روبیو کا روس-یوکرین امن مذاکرات سے متعلق اہم بیان، غزہ کی صورتحال پر بھی اظہارِ تشویش

استنبول: امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع میں بریک تھرو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ملاقات کے بعد ممکن ہے۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق مارکو روبیو نے اعلان کیا ہے کہ وہ آج استنبول میں ترک وزیر خارجہ اور یوکرینی وفد سے ملاقات کریں گے تاکہ امن مذاکرات کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ روس-یوکرین جنگ کے خاتمے اور قیامِ امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کے خواہاں ہیں اور جب تک مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوتا، امریکا فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔

غزہ کی صورتحال پر امریکی ردعمل
غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا غزہ میں انسانی بحران پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ غزہ میں امدادی منصوبوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم امریکا متبادل امدادی منصوبے پر کام کر رہا ہے تاکہ فلسطینی عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔روبیو کا کہنا تھا:"امریکا غزہ کے عوام کی تکالیف سے بے حس نہیں ہے، ہم امداد فراہم کرنے کے مواقع تلاش کر رہے ہیں اور اس حوالے سے عالمی شراکت داروں سے مشاورت جاری ہے۔"امریکی وزیرِ خارجہ کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرقی یورپ اور مشرق وسطیٰ دونوں خطے شدید بحرانوں کا شکار ہیں، اور بین الاقوامی برادری ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔