اسرائیل کی غیرقانونی آبادکاری فلسطینی ریاست کے قیام کیلیے بڑا خطرہ ہے، وزیرِخارجہ محمد اسحاق ڈار

اسرائیل کی غیرقانونی آبادکاری فلسطینی ریاست کے قیام کیلیے بڑا خطرہ ہے، وزیرِخارجہ محمد اسحاق ڈار

نیویارک: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اسرائیلی آبادکاری اور مغربی کنارے و مشرقی یروشلم سے متعلق پالیسیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کارروائیاں مستقبل کی فلسطینی ریاست کے جغرافیائی تسلسل اور قیام کے امکانات کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی فلسطین سے متعلق کمیٹی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر فوری اور مؤثر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔اسحاق ڈار کے مطابق موجودہ سفارتی کوششوں سے سیاسی پیش رفت کی کچھ امید پیدا ہوئی ہے، تاہم سیکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال اور انسانی بحران بدستور تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تنازع کے حل کے لیے ثالثی اور سفارتی کوششیں کرنے والے ممالک کے کردار کو سراہا۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی الحاق کی پالیسیوں اور آبادکاری میں توسیع سے فلسطینی علاقوں کا جغرافیائی تسلسل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کے E1 علاقے میں مزید ہزاروں رہائشی یونٹس کے منصوبے پر بھی بین الاقوامی سطح پر تشویش سامنے آئی ہے۔اسحاق ڈار نے مسجد اقصیٰ کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقدس مقامات کی موجودہ حیثیت کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ او آئی سی بھی اس سے قبل مسجد اقصیٰ اور القدس کی تاریخی و قانونی حیثیت میں تبدیلی کی کوششوں کو مسترد کرنے کا مؤقف اختیار کرچکی ہے۔

انہوں نے او آئی سی کے رکن ممالک پر زور دیا کہ فلسطین کے معاملے پر محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے مربوط اور مؤثر سفارتی لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔ ان کے مطابق فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور مسئلے کے پائیدار حل کے لیے عالمی فورمز پر مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ ایک پائیدار اور قابلِ اعتماد سیاسی عمل کے ذریعے ہی آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور ایک آزاد، متصل اور خودمختار فلسطینی ریاست کی حمایت جاری رکھے گا۔او آئی سی کی فلسطین کمیٹی کے اجلاس میں بھی رکن ممالک نے فلسطینی عوام کے حقوق اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے والی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے، انسانی امداد کی فوری اور محفوظ فراہمی اور فلسطین کی عالمی سطح پر حمایت بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔

اسحاق ڈار ان دنوں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں شریک ہیں، جہاں ان کی فلسطین کے معاملے پر متعدد اجلاسوں اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں متوقع ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ان کے پروگرام میں دو ریاستی حل کے نفاذ سے متعلق عالمی اتحاد کے وزارتی اجلاس سمیت فلسطین کے حوالے سے کئی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں شامل ہیں۔