پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شاہ محمود قریشی نے اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چند اہم سیاسی نکات پر روشنی ڈالی۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو بلاوجہ ٹرمپ سے توقعات نہیں باندھنی چاہئیں اور یہ کہ ہمیں اپنی رہائی اپنے موقف اور مقدمات کی پیروی سے مل سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں اصلاحات کے لیے قومی اتفاق رائے ضروری ہے، اور اس کے لیے ایک بڑا قومی معاہدہ ہونا چاہیے۔شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ کوئی انفرادی شخص چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس لیے موجودہ قیادت کو دل و دماغ سے ملک کے مفاد میں سوچنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو آزادانہ اور خودمختار الیکشن کمیشن پر اتفاق کرنا چاہیے کیونکہ آزاد اور خودمختار ادارے کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے۔انہوں نے سابق صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو آئین کا حلیہ بگاڑنے کے ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ ان کی جماعتیں ن لیگ کے ساتھ مل کر جمہوریت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے پییکا ایکٹ میں ترمیم کو ملک میں آزادی اظہار رائے کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا اور اس عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔