اسلام آباد: دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان نے پاک بھارت کشیدگی، چین کی خودمختاری، اور عالمی تعلقات پر اہم نکات پیش کیے
دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی خارجہ پالیسی، علاقائی سلامتی، اور بین الاقوامی تعلقات سے متعلق متعدد اہم معاملات پر روشنی ڈالی۔
چین کی خودمختاری پر پاکستان کی حمایت
ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے چین کی اروناچل پردیش پر رپورٹس کا مشاہدہ کیا ہے اور وہ چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
پاک بھارت کشیدگی اور جنگ بندی
انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی صورتحال رہی ہے۔ بھارت کی جارحیت نے خطے کے امن کو نقصان پہنچایا، جس کے جواب میں پاکستان نے آپریشن "بنیان المرصوص" کے تحت مؤثر اور نپی تلی جوابی کارروائی کی۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے چھ جنگی طیارے گرائے، اور یہ واضح کیا کہ پاکستانی مسلح افواج نے اپنی حدود میں رہ کر دفاعی کارروائی کی۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔
ڈی جی ایم اوز کے روابط
شفقت علی خان نے کہا کہ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز مسلسل رابطے میں ہیں اور سیز فائر کے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے مرحلہ وار تناؤ میں کمی پر کام جاری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی بہت سے دوست ممالک کی سفارتی کوششوں سے ممکن ہوئی، اور پاکستان ان کا شکر گزار ہے۔
امن کی خواہش کمزوری نہیں
ترجمان نے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے لیکن اس کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ 14 مئی کو پاکستان نے بھارتی بارڈر سیکیورٹی اہلکاروں کو واپس کیا جبکہ بدلے میں بھارت نے پاکستانی رینجرز کا جوان واپس کیا۔
مقبوضہ کشمیر اور دہشتگردی کا مسئلہ
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہر وقت مذاکرات کا حامی رہا ہے اور تمام باہمی تنازعات، بالخصوص مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے بات چیت چاہتا ہے۔ تاہم، بھارت کی جانب سے ریاستی دہشتگردی اور پاکستان میں دہشتگردوں کی پشت پناہی کے شواہد موجود ہیں۔
برطانوی سیکریٹری خارجہ کا دورہ پاکستان
آخر میں ترجمان نے بتایا کہ برطانیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات قریبی، برادرانہ اور مؤثر ہیں، اور برطانوی سیکریٹری خارجہ اس وقت پاکستان کے دورے پر ہیں۔