اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران میں فضائی حملے کیے ہیں، جن میں متعدد میزائل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کے قریب گرے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، تہران کی یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری علاقے میں زور دار دھماکے سنے گئے ہیں، اور شہر کے مختلف مقامات سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا ہے۔ حملے اس علاقے کے قریب ہوئے جہاں آیت اللہ علی خامنہ ای کا دفتر واقع ہے، تاہم ابھی تک کسی بڑے نقصان یا جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ، یہ حملے ایک ’پیشگی حفاظتی کارروائی‘ ہیں، جن کا مقصد ایران سے ممکنہ خطرات کو روکنا ہے۔ ایرانی ریاستی میڈیا نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ہے، اور تہران کے مضافات سے دھوئیں کے گہرے بادل بلند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جس سے صورت حال کشیدہ ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور اس صورتحال سے بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ غیرملکی ذرائع کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یورینیم کی افزودگی نہ کرے، اور حالیہ کشیدگی کے دوران امریکہ اور ایران کے مذاکرات بھی جاری ہیں۔