حکومت کاامتحان

طلعت بٹ
پاکستان کی سیاست میں کچھ تنازعات ایسے ہیں جو وقت کے ساتھ ختم ہونے کے بجائے مزید گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں. عمران خان اور موجودہ حکومت کے درمیان جاری سیاسی کشمکش بھی اب محض ایک سیاسی جماعت اور حکومت کے اختلاف تک محدود نہیں رہی. یہ معاملہ عدالتوں، جیلوں، ریاستی اداروں، سیاسی جماعتوں، عوامی جذبات اور ملک کے مجموعی سیاسی مستقبل سے جڑ چکا ہے. تازہ صورت حال نے ایک بار پھر اس تنازعے کو مرکزِ نگاہ بنا دیا ہے. سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عمران خان کو جیل سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے اور طبی معائنے و علاج کا حکم دیا تھا. بعد میں حکومت نے اس حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کی اور سکیورٹی خدشات کا مؤقف اختیار کیا. عمران خان کو طبی معائنے کے لیے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں حکومتی مؤقف کے مطابق ماہر ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر جیل واپس بھیجنے کے قابل قرار دیا. لیکن تحریک انصاف نے اس اقدام کو عدالت کے حکم کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا. پارٹی کا مؤقف ہے کہ عدالت نے عمران خان کو مخصوص طبی نگرانی میں رکھنے کا حکم دیا تھا، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ عدالت کے حکم کی روح کے مطابق طبی معائنہ کرایا گیا اور سکیورٹی حالات کے باعث اسپتال کے انتخاب میں تبدیلی ضروری تھی. عمران خان کو سیاسی منظرنامے سے الگ کر کے دیکھنا شاید اب ممکن نہیں. وہ 2022 میں وزارتِ عظمیٰ سے محروم ہوئے، 2023 سے جیل میں ہیں اور اس دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات چلے. ان کے حامی ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں، جبکہ حکومت اور ریاستی اداروں کا مؤقف رہا ہے کہ انہیں قانون کے مطابق مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. عمران خان خود بھی الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں. دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی قید کے باوجود ان کا سیاسی اثر ختم نہیں ہوا. 2024 کے انتخابات میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں نے بڑی تعداد میں نشستیں حاصل کیں، اگرچہ جماعت کو انتخابی نشان کے معاملے سمیت کئی رکاوٹوں کا سامنا رہا اور بعد میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت قائم ہوئی. برطانوی حکومت کی ایک حالیہ رپورٹ بھی 2024 کے انتخابی نتائج اور پی ٹی آئی سے متعلق مختلف پابندیوں اور تنازعات کا ذکر کرتی ہے. یہی حقیقت حکومت کے لیے سب سے بڑا سیاسی چیلنج ہے. عمران خان کو جیل میں رکھنا شاید قانونی عمل کا حصہ ہو، لیکن انہیں سیاسی طور پر غیر متعلق بنا دینا ایک بالکل مختلف معاملہ ہے. دوسری جانب حکومت کے مؤقف کو بھی مکمل طور پر نظرانداز کرنا درست نہیں ہوگا. ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ جیل میں موجود ہر قیدی کی صحت، سلامتی اور قانونی حقوق کی حفاظت کرے، لیکن ساتھ ہی جیل کی سکیورٹی اور انتظامی تقاضوں کو بھی دیکھے. حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کو مناسب طبی سہولتیں دی جا رہی ہیں. وزارتِ اطلاعات کے مطابق انہیں متعدد مرتبہ ڈاکٹروں اور طبی ماہرین سے معائنہ کرایا گیا، خاندان، وکلا اور ڈاکٹروں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں، اور ان کے ساتھ طبی غفلت یا ناروا سلوک کے الزامات کو حکومت نے مسترد کیا ہے. حکومت کا یہ مؤقف اپنی جگہ قابلِ سماعت ہے. لیکن حکومت کے لیے ایک بنیادی اصول ہمیشہ سامنے رہنا چاہیے. کہ کیا عمران خان کو بہترین طبی سہولتیں حاصل ہیں، ان کے ذاتی یا غیر جانب دار ماہرین کو مناسب رسائی حاصل ہے اور عدالت کے احکامات پر مکمل عمل ہو رہا ہے تو اس سے حکومت کا مؤقف مضبوط ہوگا. لیکن اگر کسی فیصلے کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہو جائے کہ قانون سے زیادہ سیاسی ضرورت غالب ہے، تو حکومت خود اپنے لیے مشکلات پیدا کرے گی. اس پوری کشمکش میں عدلیہ کا کردار انتہائی اہم ہو گیا ہے. ایک طرف حکومت ہے جو انتظامی اور سکیورٹی وجوہات پیش کرتی ہے، دوسری طرف عمران خان!ایسے میں عدالت کے لیے سب سے اہم چیز کسی فریق کی سیاسی مقبولیت نہیں بلکہ قانون اور آئین ہونا چاہیے. اگر عدالت حکم دیتی ہے کہ ایک قیدی کو مخصوص اسپتال میں علاج فراہم کیا جائے تو انتظامیہ کو اس حکم پر عمل کرنا چاہیے. اگر حکومت سمجھتی ہے کہ حکم پر عمل درآمد میں سکیورٹی یا انتظامی مسئلہ موجود ہے تو اس کا مناسب راستہ عدالت سے رجوع کرنا ہے، نہ کہ ایسا اقدام کرنا جس سے بعد میں توہینِ عدالت کا تنازع پیدا ہو. یہ اصول صرف عمران خان کے لیے نہیں ہونا چاہیے. یہی اصول نواز شریف، آصف علی زرداری، شہباز شریف، کسی عام سیاسی کارکن یا کسی عام قیدی کے لیے بھی ہونا چاہیے. اس تمام صورتحال میں حکومت ایک بڑے امتحان سے گزر رہی ہے. عمران خان کی مقبولیت پارٹی کا سب سے بڑا سیاسی سرمایہ ہے، لیکن کسی سیاسی جماعت کا مستقبل صرف ایک شخصیت پر منحصر نہیں ہونا چاہیے. اگر تحریک انصاف پاکستان کی ایک طویل المدت سیاسی قوت بننا چاہتی ہے تو اسے عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ ملک کے مستقبل کا واضح سیاسی پروگرام بھی دینا ہوگا. صرف یہ کہنا کہ عمران خان کو رہا کیا جائے، ایک سیاسی مطالبہ ضرور ہے مگر اپنے اپنے مفاد کیلئے نظر آتا ہے. اسی طرح احتجاج بھی جمہوری سیاست کا حصہ ہے، لیکن احتجاج کو ہمیشہ پرامن اور آئینی حدود میں رہنا چاہیے. ماضی کے پرتشدد واقعات نے نہ صرف ریاست اور پی ٹی آئی کے درمیان فاصلے بڑھائے بلکہ پارٹی کے سیاسی سفر کو بھی نقصان پہنچایا. حکومت کے لیے سب سے بڑی سیاسی کامیابی یہ نہیں ہوگی کہ وہ عمران خان کو خاموش کر دے. بڑی کامیابی یہ ہوگی کہ وہ عمران خان کی موجودگی کے باوجود ملک کو سیاسی استحکام کی طرف لے جائے. ہر دور نے ثابت کیا ہے کہ مقبول سیاسی قوتوں کو انتظامی طریقوں سے ختم کرنا آسان نہیں ہوتا. آج اگر عمران خان جیل میں ہیں تو بھی ان کا نام سیاست میں موجود ہے. ان کی جماعت کے کارکن موجود ہیں، ان کے حامی موجود ہیں اور ان کا بیانیہ موجود ہے. اس لیے حکومت کو یہ سوچنا ہوگا کہ کیا مسلسل محاذ آرائی پاکستان کے مفاد میں ہے؟ اگر سیاسی مذاکرات کا کوئی راستہ نکل سکتا ہے تو اسے تلاش کیا جانا چاہیے. مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ کسی فریق کو اپنے مقدمات سے استثنیٰ دے دیا جائے یا قانون کو نظرانداز کیا جائے۔ مذاکرات کا مطلب صرف یہ ہے کہ سیاسی تنازعات کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جائے جبکہ عدالتی معاملات عدالتوں میں چلتے رہیں. عمران خان کے سیاسی سفر میں بھی ریاستی اداروں کے ساتھ تعلقات کے کئی ادوار آئے. ابتدا میں تعلقات نسبتاً قریب سمجھے گئے، بعد میں اختلافات بڑھے اور بالآخر شدید سیاسی کشیدگی میں تبدیل ہوئے. یہ پاکستان کے لیے ایک بڑا سبق ہے. کسی بھی سیاسی حکومت کو اپنے اقتدار کے لیے ریاستی اداروں پر ضرورت سے زیادہ انحصار نہیں کرنا چاہیے، اور کسی بھی ریاستی ادارے کو سیاسی جماعتوں کی مقبولیت یا غیر مقبولیت کا فیصلہ کرنے والے فریق کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے. جمہوریت کا بنیادی اصول یہی ہے کہ سیاسی فیصلے عوام اور پارلیمان کریں، جبکہ ادارے اپنے آئینی دائر? کار میں رہیں. پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کا سب سے اہم فریق شاید حکومت یا عمران خان نہیں بلکہ پاکستانی عوام ہیں. عوام مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بل، ٹیکس، امن و امان، تعلیم اور صحت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں. ایک عام پاکستانی کے لیے یہ سوال زیادہ اہم ہے کہ اس کی زندگی کب بہتر ہوگی. اگر سیاست مسلسل عمران خان بمقابلہ حکومت کے گرد گھومتی رہی تو ملک کے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے جائیں گے. حکومت کو اپنی کارکردگی سے جواب دینا ہوگا اور اپوزیشن کو اپنے متبادل پروگرام سے، عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکومت سے بھی سوال کریں اور اپوزیشن سے بھی. موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے تین ممکنہ راستے دکھائی دیتے ہیں. پہلا راستہ مسلسل محاذ آرائی کا ہے. حکومت سخت مؤقف برقرار رکھے، تحریک انصاف احتجاج بڑھائے اور عدالتوں میں مقدمات چلتے رہیں. یہ راستہ دونوں فریقوں کو مزید دور لے جا سکتا ہے. دوسرا راستہ مکمل عدالتی عمل کا ہے. عمران خان کے تمام مقدمات کو تیزی، شفافیت اور قانونی تقاضوں کے مطابق نمٹایا جائے۔ جو الزام ثابت ہو، اس پر قانون کے مطابق سزا ہو اور جہاں الزام ثابت نہ ہو، وہاں رہائی یا ریلیف دیا جائے. یہ راستہ شاید سب سے مشکل، لیکن سب سے مضبوط ہے. تیسرا راستہ سیاسی مفاہمت کا ہے. حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو تسلیم کریں، سیاسی قیدیوں اور مقدمات کے معاملات پر قانون کے دائرے میں بات کریں اور ملک کو انتخابات، پارلیمان اور سیاسی مقابلے کی طرف واپس لے جائیں. میرے نزدیک پاکستان کے لیے تیسرا راستہ سب سے زیادہ مفید ہے، بشرطیکہ مفاہمت قانون کی قیمت پر نہ ہو. عمران خان پاکستان کی سیاست کا ایک اہم باب ہیں. ان سے اتفاق کیا جائے یا اختلاف، ان کے سیاسی اثر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا. اسی طرح موجودہ حکومت بھی پاکستان کے آئینی نظام کا حصہ ہے اور اسے اپنا دورِ حکومت چلانے کا حق حاصل ہے. لیکن ایک ریاست اس وقت مضبوط نہیں ہوتی جب حکومت اپنے مخالف کو کمزور کر دے. ریاست اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب مخالف بھی قانون پر اعتماد کرے اور حکومت بھی قانون کے سامنے جواب دہ ہو. آج پاکستان کو کسی ایک شخصیت کی فتح یا شکست سے زیادہ اداروں کی مضبوطی، قانون کی بالادستی اور سیاسی برداشت کی ضرورت ہے. عمران خان کی جیل، حکومت کی پوزیشن، پی ٹی آئی کی مزاحمت اور عدالتوں کے فیصلے آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا سکتے ہیں. لیکن آخرکار اس مسئلے کا پائیدار حل طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ آئین، عدالت، پارلیمان اور عوامی مینڈیٹ کے احترام سے نکلے گا. پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی سیاست کو شخصیات کی جنگ بنانا چاہتے ہیں یا اداروں کا مضبوط نظام؟ اگر جواب دوسرا ہے تو پھر حکومت کو بھی برداشت کا مظاہرہ کرنا ہوگا، اپوزیشن کو بھی ذمہ داری دکھانا ہوگی، عدالتوں کو بھی غیر جانب داری برقرار رکھنا ہوگی اور ریاستی اداروں کو بھی اپنے آئینی دائرے میں رہنا ہوگا. کیونکہ تاریخ کا فیصلہ کسی ایک حکومت، کسی ایک جماعت یا کسی ایک رہنما کے حق میں نہیں ہوتا. تاریخ آخرکار اسی نظام کو کامیاب قرار دیتی ہے جس میں قانون طاقتور سے طاقتور شخص کے لیے بھی وہی ہو جو ایک عام شہری کے لیے ہے. اور شاید پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کا اصل حل بھی یہی ایک جملہ ہے۔