اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں مقامی سطح پر تیار ہونے والے موبائل فونز سمیت مختلف شعبوں پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کی تجویز دے دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق فنانس بل 2026 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکنڈ شیڈول کے پارٹ دوم میں متعدد ترامیم پیش کی گئی ہیں، جن کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور ریونیو میں اضافہ کرنا ہے۔مجوزہ تبدیلیوں کے تحت پیکجڈ اشیا، کھاد، چینی، الیکٹرانکس اور مقامی طور پر تیار کردہ موبائل فونز کے ڈسٹری بیوٹرز، ڈیلرز، سب ڈیلرز اور ہول سیلرز پر کم از کم ٹیکس کی شرح 0.25 فیصد سے بڑھا کر 0.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔فنانس بل کے مطابق سیکشن 113(1) کے تحت کم از کم ٹیکس کی شرح میں یہ اضافہ مختلف کاروباری شعبوں پر لاگو ہوگا، جس کا مقصد ریٹیل اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک سے زیادہ محصولات حاصل کرنا ہے۔اس کے علاوہ فنانس بل میں ٹرمینل آپریٹرز پر سیکشن 153(1)(b) کے تحت عائد ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کرکے 12 فیصد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جس سے لاجسٹکس اور بندرگاہی شعبے میں ریلیف کی توقع کی جا رہی ہے۔مزید برآں لوہے اور اسٹیل مصنوعات تیار کرنے والے مینوفیکچررز کے لیے ایک اہم تبدیلی تجویز کی گئی ہے، جس کے تحت ان کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس کو ایڈجسٹ ایبل سے تبدیل کرکے کم از کم ٹیکس قرار دیا جائے گا۔
فنانس بل 2026 میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ٹریڈنگ ہاؤسز چلانے والی کمپنیوں کو سیکشن 153 کے تحت حاصل ودہولڈنگ ٹیکس چھوٹ ختم کر دی جائے۔اسی طرح غیر منقولہ جائیداد کی فروخت، خریداری اور منتقلی پر لیٹ فائلرز کے لیے مقرر ٹیکس شرحیں ختم کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ٹیکس نیٹ کو مضبوط بنانا، محصولات میں اضافہ اور معیشت کے مختلف شعبوں میں ٹیکس نظام کو مزید منظم بنانا ہے۔