ویب ڈیسک: وفاقی حکومت نے بجٹ 2025-26 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں اہم ترامیم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں ڈیجیٹل ٹرانزیکشن لیوی سے لے کر پنشن آمدن پر ٹیکس تک کئی نئے اقدامات شامل ہیں۔
اہم نکات:
ڈیجیٹل ٹرانزیکشن لیوی:
ڈیجیٹل لین دین پر ڈیجیٹل پروسیڈ لیوی متعارف کرائی جا رہی ہے۔یہ لیوی ڈیجیٹل معیشت کو ریگولیٹ اور ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے تجویز کی گئی ہے۔
مخصوص سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس:
سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 4 فیصد سے بڑھا کر 6 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
قرض پر منافع:
قرض پر منافع (Profit on Debt) پر ٹیکس 15 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
پنشن آمدن پر ٹیکس:
جن افراد کی سالانہ پنشن آمدن 1 کروڑ روپے (10 ملین) سے زائد ہو، ان پر 5 فیصد فلیٹ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
سپر ٹیکس میں نرمی:
سپر ٹیکس میں مخصوص آمدنی سلیب پر 0.5 فیصد کمی تجویز کی گئی ہے۔
تنخواہ دار طبقے اور محققین کو ریلیف:
تنخواہ دار طبقے کو:
ٹیکس شرح میں ریلیف
سرچارج میں نرمی دی جائے گی۔
اساتذہ اور محققین کے لیے 25 فیصد ٹیکس چھوٹ کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کرائے کی پراپرٹی:
کرائے کی جائیداد پر ٹیکس کی بنیاد فیئر مارکیٹ ویلیو پر رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
نقد خرید پر سختی:
نقد خریداری کی صورت میں 50 فیصد اخراجات کو ناقابل قبول قرار دیا جائے گا۔
کوئلہ اور صنعت:
کوئلے کی سپلائی سے حاصل آمدن پر انکم ٹیکس عائد ہوگا۔
اس آمدن پر 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ کی اجازت ہوگی۔
کم از کم ٹرن اوور ٹیکس:
کم از کم ٹرن اوور ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ مدت کو 3 سال سے کم کرکے 2 سال کیا جا رہا ہے۔