وفاقی بجٹ 26-2025: بینک ڈیپازٹس، بچت اسکیموں اور کیش نکلوانے پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز

وفاقی بجٹ 26-2025: بینک ڈیپازٹس، بچت اسکیموں اور کیش نکلوانے پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز

ویب ڈیسک: وفاقی بجٹ 2025-26 کی تیاریوں کے دوران حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور محصولات میں اضافہ کرنے کے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں، جن میں بینک ڈیپازٹس، بچت اسکیموں، اور کیش نکلوانے پر ٹیکسوں میں اضافہ نمایاں ہے۔

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق:

بینک ڈیپازٹس اور بچت اسکیموں پر عائد موجودہ ٹیکس کی شرح بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ زیادہ منافع حاصل کرنے والوں سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جا سکے۔
نان فائلرز پر کیش نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 0.6 فیصد سے بڑھا کر 1.2 فیصد کیے جانے کا امکان ہے، جس کا مقصد نان فائلرز کو فائلر بننے کی ترغیب دینا ہے۔
یومیہ 50 ہزار روپے سے زائد رقم نکالنے پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، تاکہ بڑے پیمانے پر نقد لین دین کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں پر اضافی لیوی لگانے پر غور کیا جا رہا ہے، جس سے ماحولیاتی تحفظ اور متبادل ایندھن کی طرف رجحان پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
کیپیٹل گین اور منافع (Capital Gains and Profit) پر بھی ٹیکس میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ اسٹاک مارکیٹ اور سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدن پر یکساں ٹیکس لاگو ہو۔
سپر ٹیکس کی شرح میں ممکنہ کمی کی تجویز بھی زیر غور ہے، خاص طور پر ان کاروباری شعبوں کے لیے جو مسلسل ٹیکس نیٹ میں آ چکے ہیں۔ای کامرس سیکٹر پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST) نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کا اطلاق آن لائن خرید و فروخت اور ڈیجیٹل کاروباروں پر ہو سکتا ہے۔یہ تمام تجاویز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی، جس کے بعد حتمی منظوری دی جائے گی۔ بجٹ کا مقصد محصولات میں اضافہ، مالی خسارے پر قابو پانا، اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی شرائط کو پورا کرنا ہے۔