پاکستان اور ہنگری کے درمیان ثقافت، ویزہ اور ورثے سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کے معاہدے

پاکستان اور ہنگری کے درمیان ثقافت، ویزہ اور ورثے سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کے معاہدے

اسلام آباد: پاکستان اور ہنگری کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط — تعلقات میں نیا سنگ میل

پاکستان اور ہنگری کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مضبوط بنانے کی غرض سے اسلام آباد میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سیارجتو نے متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔

 دستخط شدہ مفاہمتی یادداشتیں:
اس تقریب کے دوران جن شعبوں میں یادداشتوں پر دستخط ہوئے، ان میں شامل ہیں:

ڈپلومیٹک پاسپورٹس پر ویزہ فری سفر کا معاہدہ

اب دونوں ممالک کے سفارت کار بغیر ویزے کے ایک دوسرے کے ممالک کا سفر کر سکیں گے، جس سے سرکاری سطح پر سفری روابط مزید آسان ہوں گے۔
ثقافتی تعاون

پاکستان اور ہنگری کے درمیان ثقافتی تبادلے، فن، موسیقی، ادبی سرگرمیوں اور باہمی میل جول کو فروغ دیا جائے گا۔
آثار قدیمہ اور ثقافتی ورثہ

تاریخی ورثے کے تحفظ اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں پر تعاون کا عزم کیا گیا ہے، جس میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے۔
 مشترکہ پریس کانفرنس — اہم نکات:
 اسحاق ڈار کا بیان:
ہنگری کے وزیر خارجہ کو خوش آمدید کہا۔کہا کہ "پاکستان اور ہنگری کے درمیان سفارتی، ثقافتی، اور تجارتی تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔"جی ایس پی پلس (GSP+) میں ہنگری کی مسلسل حمایت پر اظہارِ تشکر۔پاکستان میں سرمایہ کاری کے بڑے مواقع موجود ہیں، ہنگری کے سرمایہ کاروں کو خوش آمدید کہا جائے گا۔یوکرین تنازع، افغان صورتحال، اور غیر قانونی مقیم افراد جیسے اہم عالمی امور پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔
 ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سیارجتو کا بیان:
پاکستان کی میزبانی کو سراہتے ہوئے کہا کہ "ہم پاکستان کے ساتھ دوستی اور باہمی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔"ثقافت، آثارِ قدیمہ، تجارت، اور تعلیم جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار۔عالمی سیاست پر پاکستان کے ساتھ ہم آہنگی کا اعتراف کرتے ہوئے افغانستان میں دہشتگردی کے خطرات پر تشویش کا اظہار کیا۔یوکرین جنگ کو بات چیت سے ختم کرنے کی حمایت کی۔کہا کہ پاکستان کو قابل اعتماد اتحادی سمجھتے ہیں اور جی ایس پی پلس میں پاکستان کی حمایت جاری رکھیں گے۔
  دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کی راہ:
یہ مفاہمتی یادداشتیں نہ صرف دو طرفہ تعلقات میں نئی جہتیں متعارف کروا رہی ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، ثقافتی اور سفارتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کا باعث بھی بنیں گی۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بڑھتے مواقع اور ہنگری کی یورپی یونین کے ساتھ موجودگی ان تعلقات کو مزید مفید بنا سکتی ہے۔