امریکا: دفاعی بجٹ 1.5 ٹریلین ڈالر تک بڑھانے کی تجویز، سماجی اخراجات میں بڑی کٹوتیوں کا امکان

امریکا: دفاعی بجٹ 1.5 ٹریلین ڈالر تک بڑھانے کی تجویز، سماجی اخراجات میں بڑی کٹوتیوں کا امکان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مالی سال 2027 کے لیے دفاعی بجٹ تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر تک بڑھانے کی کانگریس سے درخواست کر دی ہے، جو جدید تاریخ میں فوجی اخراجات کی بلند ترین سطح ہو سکتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے پیش کیے گئے اس بجٹ منصوبے میں دفاعی اخراجات میں تقریباً 40 فیصد اضافہ جبکہ مختلف داخلی حکومتی پروگرامز میں 73 ارب ڈالر کی کٹوتیوں کی سفارش شامل ہے۔ ان کٹوتیوں کا ہدف صحت، تعلیم، رہائش اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے امدادی پروگرامز ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ اضافہ عالمی تنازعات، خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے پیش نظر ضروری ہے، اور قومی سلامتی کو اولین ترجیح دی جائے گی، چاہے اس کے لیے فلاحی پروگرامز میں کمی کیوں نہ کرنا پڑے۔تاہم اس مجوزہ بجٹ پر ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی سطح پر دفاعی اخراجات میں اضافہ وفاقی قرضے میں مزید اضافہ کرے گا اور عوامی فلاح کے اہم شعبے متاثر ہوں گے۔وائٹ ہاؤس نے داخلی اخراجات میں تقریباً 10 فیصد کمی کی تجویز بھی دی ہے، جس میں قدرتی آفات، اساتذہ کی تربیت، طبی تحقیق، صاف توانائی اور ٹیکس فراڈ کے خاتمے جیسے شعبے شامل ہیں۔

بعض پروگرامز، جو اقلیتی اور کمزور طبقات کی مدد کرتے ہیں، مکمل طور پر ختم کیے جا سکتے ہیں۔بجٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے فنڈنگ میں اضافہ بھی شامل ہے، جس کے تحت محکمہ انصاف کے لیے 40 ارب ڈالر سے زائد مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ کے لیے اضافی وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ بجٹ بغیر بڑی تبدیلیوں کے منظور ہو گیا تو آئندہ دہائی میں امریکی قرضے میں کھربوں ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی تقریباً 39 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔یاد رہے کہ امریکی آئین کے تحت بجٹ کی حتمی منظوری کانگریس کے اختیار میں ہے اور صدر کی تجویز کو قانون بنانے کے لیے قانون سازوں کی منظوری ضروری ہوگی۔