ایران جنگ کے خاتمے کے بعد پاکستان 2027ء میں اپنی معاشی بہتری دیکھ رہا ہے: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب

ایران جنگ کے خاتمے کے بعد پاکستان 2027ء میں اپنی معاشی بہتری دیکھ رہا ہے: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب

اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایران معاہدے کے بعد پاکستان کو اپنی معاشی صورتحال اور اہداف میں بہتری کی توقع ہے، جبکہ جنگ کے خاتمے کے بعد ملک کی معیشت 2027ء کے دوران مزید استحکام کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں وزیرِ خزانہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں بجٹ میں فوری تبدیلی کرنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ خطے میں حالیہ تنازع کے اثرات ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق جنگ کے دوران توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور سپلائی چینز کی مکمل بحالی میں مزید وقت درکار ہوگا۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ اس تنازع کے باعث مہنگائی دوبارہ دو ہندسوں کی سطح تک پہنچ گئی تھی، تاہم حکومت آئندہ مالی سال میں معاشی استحکام کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 2027ء کے لیے معاشی شرحِ نمو کا ہدف 4 فیصد اور مہنگائی کا ہدف 8.2 فیصد مقرر کیا ہے۔وزیرِ خزانہ کے مطابق دفاعی اخراجات میں 18 فیصد اضافہ کرتے ہوئے انہیں 3 کھرب روپے تک بڑھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے حکومت زیادہ تر انحصار ٹیکس آمدن میں اضافے پر کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا مقصد قرضوں کے ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے، جس کے لیے کمرشل قرضوں کی طرف منتقلی اور بعض دو طرفہ قرضوں کو تبدیل کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے، تاہم بیرونی قرضوں کے مجموعی حجم میں اضافہ حکومت کا ہدف نہیں ہے۔

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات کے 3.4 ارب ڈالر کے ڈپازٹس واپس کیے، جبکہ اماراتی کمرشل بینکوں سے بھی مالی معاونت حاصل کی گئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں مزید پانڈا بانڈز، یورو بانڈز اور امریکی ڈالر بانڈز جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم ان کے حجم کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔ اگلے مالی سال کے لیے 2.82 ارب ڈالر کمرشل اور یورو بانڈ فنانسنگ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔وزیرِ خزانہ کے مطابق پاکستان کو 1 ارب ڈالر کے پانڈا بانڈز کے اجرا کی منظوری حاصل ہے جبکہ پہلے 250 ملین ڈالر کے پانڈا بانڈ کو 95 فیصد ضمانت حاصل تھی۔انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل معیشت کو بھی منظم کرنے جا رہی ہے، جس میں کرپٹو کرنسی، ٹوکنائزیشن اور ڈیجیٹل اثاثہ ایکسچینجز کی ریگولیشن شامل ہوگی، اور ان شعبوں پر ٹیکس لگانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے