اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جنید اکبر خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں اور فیصلوں سے ملک میں آئینی و انتظامی بگاڑ پیدا ہوا ہے۔
اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے جنید اکبر خان نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ ان کی بات کتنی سنی جاتی ہے اور وہ ہر معاملے میں اجازت لے کر آتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ نظام میں فیصلے آزادانہ طور پر نہیں کیے جا رہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ ایوان میں کیا ہو رہا ہے اور کس طرح فیصلے کروائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ نہ پوچھیں کہ مجھے کیوں نکالا، یہ پوچھیں مجھے کیوں لایا گیا"۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ وہ تیسری مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں، اور اگر وہ کسی کا حق کھا کر ایوان میں آئے ہیں تو ان پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔انہوں نے موجودہ حکومت کو "مسلط کردہ حکومت" قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار سالوں میں اداروں اور آئین کی بالادستی کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے بعض فیصلوں سے عوام میں اعتماد کم ہوا ہے۔
جنید اکبر خان نے کہا کہ بعض حکومتی وزراء غریب طبقے کے مسائل سے واقف نہیں۔ انہوں نے وزیرِ خزانہ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 8 ہزار 400 روپے تنخواہ لینے والے افراد کو غریب نہ سمجھنا زمینی حقائق سے دوری ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے آئین، قانون اور اداروں کو کمزور کیا ہے، جبکہ اپوزیشن کو بات کرنے پر مختلف رکاوٹوں اور نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جنید اکبر خان نے اپنی تقریر میں سابق وزیر امیر مقام اور دیگر سیاسی شخصیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی فیصلوں کے نتائج سب کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آنے پر سب کو اپنے کیے کا سامنا کرنا ہوگا۔اجلاس کے دوران ان کی تقریر پر ایوان میں مختلف ارکان کی جانب سے ردعمل بھی دیکھنے میں آیا، تاہم ایوان کی کارروائی معمول کے مطابق جاری رہی۔