ہر مالی سال پر افسروں و ملازمین کو بجٹ اعزازی تنخوا ہ ملے گی

اسلام آباد(بیورو رپورٹ) وفاقی کابینہ نے وفاقی وزارتوں،ڈویڑنوں اورمحکموں کے افسران وملازمین کے لئے اعزازی تنخواہوں کی نئی وفاقی پالیسی منظور کرلی ۔ درجہ بندی کے تحت وفاقی ملازمین وافسران کو ہر مالی سال میں اعزازی تنخواہیں دی جائیں گی۔ ہرمالی سال میں ڈیڑھ ارب سے زائد اعزازی تنخواہیں لینے والے وزارت خزانہ، وزیراعظم آفس ،قومی اسمبلی ، سینیٹ ،ایف بی آر، وزارت منصوبہ بندی، ریونیو ڈویڑن کے افسران وملازمین کو اعزازی تنخواہیں دینے کی حد مقرر کرنے کااختیار وفاقی وزیر خزانہ کودے دیاگیا ، جبکہ وفاقی کابینہ نے دیگر وزارتوں ،ڈویڑنوں اورمحکموں کے افسران وملازمین کو اعزازی تنخواہیں دینے کی حد مقرر کردی ، وفاقی کابینہ کی منظور کردہ پالیسی کے تحت وفاقی وزارتیں،ڈویڑن اورمحکمے تین کیٹیگریز کیتحت افسران وملازمین کو اعزازی تنخواہیں دینگے ، کیٹیگری ون کے تحت یہ عام اعزازی تنخواہ ہوگی جو پرنسپل اکائونٹنگ افسرگریڈ 1تا 22 کے ملازمین و افسران کو سال میں ایک تنخواہ کے مساوی دے سکے گا۔ کیٹیگری ٹو کے تحت کارکردگی اعزازی تنخواہ ہوگی جو کہ پرنسپل اکائونٹنگ افسر غیر معمولی کارکردگی کا مظاہر ہ کرنے والے وزارت،ڈویڑن اورمحکمے کے 25 فیصد ملازمین کو ایک بنیادی تنخواہ کے مساوی دے سکے گا ،پرنسپل اکائونٹنگ افسر مذکورہ 30فیصد افسران و ملازمین میں سے 10 فیصد کو غیر معمولی کارکردگی پر دو بنیادی تنخوا ہوں کے مساوی اعزازی تنخواہیں دے سکے گا ، کیٹیگری تھری کے تحت اعزازی تنخواہوں کو بجٹ اعزازی تنخواہوں کا نام دیاگیا ،بجٹ اعزازی تنخوا ہوں کی حد اور تعداد کاتعین وفیصلہ وفاقی وزیر خزانہ کریں گے ، پالیسی کے مطابق د یگر وفاقی وزارتیں ڈویڑن اور محکمے کے افسران وملازمین بجٹ اعزازی تنخواہیں لینے کے اہل نہیں ہوں گے۔