صرف 10 فیصد تنخواہ اضافہ قابلِ قبول نہیں، احتجاج ہوگا: سول سیکرٹریٹ ایسوسی ایشن

صرف 10 فیصد تنخواہ اضافہ قابلِ قبول نہیں، احتجاج ہوگا: سول سیکرٹریٹ ایسوسی ایشن

 ویب ڈیسک: پنجاب حکومت کی جانب سے بجٹ پیش کیے جانے سے قبل ہی سول سیکرٹریٹ ایمپلائز ایسوسی ایشن نے حکومت کو خبردار کر دیا ہے کہ اگر تنخواہوں میں صرف 10 فیصد اضافہ کیا گیا تو وہ بجٹ کو مسترد کر دیں گے اور احتجاج کریں گے۔

ایسوسی ایشن کا مؤقف:
سول سیکرٹریٹ ایمپلائز ایسوسی ایشن نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ:

ملازمین کم از کم 50 فیصد تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اگر حکومت نے صرف 10 فیصد اضافہ پر اکتفا کیا تو بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
حکومت کو مطالبات ماننے کے لیے بجٹ سے قبل فیصلہ لینا ہوگا۔
احتجاج کی دھمکی:
ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کہا کہ:

"مہنگائی کی اس لہر میں 10 فیصد اضافہ ملازمین کے ساتھ مذاق ہے۔ اگر جائز مطالبات نہ مانے گئے تو نہ صرف احتجاج کریں گے بلکہ بجٹ کا بائیکاٹ بھی کریں گے۔"
بجٹ کا پس منظر:
پنجاب حکومت آج (پیر) 6000 ارب روپے سے زائد کا سالانہ بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے، جس میں:

1200 ارب روپے سے زائد ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
تنخواہوں و پنشن میں اضافے کے حوالے سے سرکاری ملازمین کی نظریں حکومت کے فیصلے پر جمی ہوئی ہیں۔
مجموعی صورتحال:
پنجاب میں بجٹ سے قبل سرکاری ملازمین کے احتجاج کی دھمکی حکومت کے لیے نئی مشکل بن کر سامنے آئی ہے۔ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ممکنہ احتجاج سے سرکاری دفاتر کے معمولات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔