26ویں آئینی ترمیم پر حکومت نے توثیق مانگی، اصل مسودہ قابلِ قبول نہیں تھا: مولانا فضل الرحمان

26ویں آئینی ترمیم پر حکومت نے توثیق مانگی، اصل مسودہ قابلِ قبول نہیں تھا: مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کی توثیق کے لیے ہم سے رابطہ کیا گیا، تاہم ہم نے پہلے مسودہ حاصل کرکے اس کا بغور مطالعہ کیا اور مشاورت کے بعد 35 نکات پر اعتراضات اٹھائے، جس کے بعد حکومت کو ان نکات سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

 ان کا کہنا تھا کہ اصل مسودے کی موجودگی میں ترمیم کی توثیق ممکن نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ سود کے خاتمے کے حوالے سے آیا ہے، اور اس فیصلے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔کشمیر کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ 8 سے 9 سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے اور اس دوران ریاست کی جانب سے اس مسئلے پر کی جانے والی پالیسیوں کو قریب سے دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے بنیادی مؤقف میں آج تک کوئی تبدیلی نہیں آئی، پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس مسئلے کے حل کا حامی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے کشمیر کا خصوصی اسٹیٹس ختم کیا، جو قابلِ مذمت ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین روزِ اول سے جنگ کی حالت میں ہیں، اور 1967 کی جنگ میں جن علاقوں پر اسرائیل نے قبضہ کیا ان کے بارے میں اقوام متحدہ نے واضح طور پر کہا کہ یہ قبضے ناجائز ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین جیسے تنازعات کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔