تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا ایران کی ناکہ بندی اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بیک وقت مذاکرات کی توقع نہیں کرسکتا۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران پر دباؤ ڈال کر اور تمام راستے بند کرکے اسے بات چیت پر آمادہ کرنے کی کوشش قابلِ قبول نہیں۔الجزیرہ کے مطابق ایرانی صدر نے اپنے بیان میں امریکا کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب ایران کے خلاف دباؤ بڑھایا جا رہا ہے اور دوسری جانب مذاکرات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جو ایک دوسرے سے متضاد مؤقف ہیں۔پزشکیان کے مطابق بامقصد مذاکرات کے لیے ایسا ماحول ضروری ہے جس میں فریقین ایک دوسرے کے ساتھ احترام اور اعتماد کا مظاہرہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ دھمکیوں اور پابندیوں کے ذریعے مذاکرات کے لیے سازگار حالات پیدا نہیں کیے جاسکتے۔
معاہدوں کی پاسداری پر ایرانی صدر کا زور
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے معاہدوں کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاہدے میں جلد بازی سے داخل نہیں ہونا چاہیے، تاہم جب ایک مرتبہ معاہدہ طے پا جائے تو اس پر آخر تک قائم رہنا ضروری ہے۔ان کے مطابق معاہدوں کی پاسداری سفارتی تعلقات میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور فریقین کو اپنے وعدوں کی تکمیل یقینی بنانی چاہیے، چاہے اس عمل میں انہیں نقصان ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑے۔پزشکیان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں واضح شرائط اور ان پر عمل درآمد کی ضمانت کو اہم سمجھتا ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی برقرار
ایرانی صدر کا یہ بیان تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری کشیدگی اور سفارتی رابطوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اور دباؤ کی پالیسیوں کے باعث مذاکرات کی راہ میں مشکلات برقرار ہیں۔ایرانی قیادت اس سے قبل بھی امریکا کے اقدامات، پابندیوں اور معاہدوں سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے دباؤ اور دھمکیوں کے بجائے باہمی اعتماد اور وعدوں کی پاسداری ضروری ہے۔
مذاکرات کے مستقبل سے متعلق صورتِ حال
پزشکیان کے بیان میں کسی نئے مذاکراتی دور، ممکنہ معاہدے یا ملاقات کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی عمل کے مستقبل سے متعلق صورتِ حال تاحال غیر واضح ہے۔