مہنگائی بم چل گیا، پٹرول مہنگا
پٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 43 پیسے ، ڈیزل کی 262 روپے59 پیسے ہو گئی،نئی قیمتوں کا اطلاق کر دیا گیا، بلوچستان میں بیشتر پمپس پر پٹرول نہ ملنے سے عوام کومشکلات،پٹرول کا بحران نہیں سمگلرز افواہیں پھیلارہے :ترجمان بلوچستان حکومت
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )مہنگائی بم چل گیا، رات گئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ، حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان کردیا۔ پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 80 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ڈیزل کی قیمت میں فی لٹر 7 روپے 95 پیسے اضافہ کیا گیا ہے،پٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 43 پیسے فی لیٹر مقرر جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 262 روپے59 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔وزارت خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کر دیا ہے رات گئے نئی قیمتوں کا اطلاق کر دیا گیا ہے۔ایران اور اسرائیل کے مابین جاری کشیدگی کے اثرات بلوچستان میں پڑناشروع ہوگئے،کراسنگ پوائنٹس سے ایرانی تیل کی ترسیل رکنے سے کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں پٹرول اور ڈیزل کا شدید بحران پیدا ہوگیا ، 70 فیصد سے زائد پٹرول پمپس بند ہو گئے ،صورتحال یہی رہی تو بلوچستان کے تمام پٹرول پمپس بند ہونے کا خدشہ ہے جبکہ پی ایس او انتظامیہ کا موقف ہے کہ منی پٹرول پمپس بند ہونے سے کمپنیز کے پمپس پر ڈیمانڈ میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے، چند روز میں ڈیمانڈ پوری کر لیں گے۔تفصیلات کے مطابق خطے کی بگڑتی صورتحال پر حکومت بلوچستان نے ایران سے ملحقہ تربت،پنجگور اور گوادر کے تمام بارڈراور کراسنگ پوائنٹس غیر معینہ مدت کیلئیبندکردینے کے احکامات جاری کردیئے اورسفری راہداری پر پابندی لگادی، ایران اور اسرائیل میں جاری کشیدگی کے باعث مکران ڈویژن میں پٹرول مہنگا ہوگیا ہے،اشیائیخورونوش کے اشیا کی ترسیل بھی بند ہوگئی۔ڈپٹی کمشنر گوادر نے ایران کیلئے سفری راہداری پر پابندی عائد کردی،گوادر میں ایرانی پٹرول190روپے لٹر فروخت ہونے لگا،ضلعی انتظامیہ کیاعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ان راستوں سے نا صرف پیدل آمد و رفت بلکہ فیول کی ترسیل (فیول کراسنگ)پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ دوسری جانب بلوچستان بھر کی طرح کوئٹہ میں بھی بیشتر پٹرول پمپس پر پٹرول دستیاب نہیں،شہریوں کو پٹرول کے حصول کیلئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جہاں پٹرول میسر ہے وہاں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی لمبی قطاریں دکھائی دے رہی ہیں۔ منی پٹرول پمپس بند ہونے پرشہر میں پٹرول کی قلت کی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے جبکہ پی ایس او انتظامیہ کا کہناہے کہ ایرانی پٹرول پمپس بند ہونے سے عوام کا سارا لوڈ ان کمپنیز کے پٹرول پمپس پر آ رہا ہے، اس سے قبل پی ایس او کو جتنا فیول ملتا تھا اب ڈیمانڈ 10 گنا سے زائد ہو چکی ہے، ایک سے ڈیڑھ لاکھ لیٹر فیول کی ڈیمانڈ دو ہفتوں کے دوران 11 سے 12 لاکھ لٹر تک پہنچ چکی ہے، ڈیمانڈ بڑھنے کے بعد اب اسی ڈیمانڈ کے مطابق فیول منگوایا جا رہا ہے،چند روز تک یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے کہا ہے کہ کوئٹہ اورصوبے میں پٹرول کا کوئی بحران نہیں ،ایسی افواہیں ایرانی پٹرول کے کاروبار سے وابستہ سمگلرز کی جانب سے پھیلائی جاررہی ہیں۔ایرانی پٹرول پمپ سنگین سکیورٹی خطرات اور حادثات کا موجب ہیں ، ایک ماہ میں28مقامات پر ایرانی پٹرول پمپس پر حادثات پیش آئے ، کروڑوں کا نقصان ہو، ایرانی پٹرول و سمگلنگ کیخلاف سخت کارروائی جاری ہے،قانونی پٹرول کی دستیابی کیلئے پٹرول پمپس کو پابند کیا جاررہا ہے۔دریں اثنا وزارت خارجہ کاکہناہے کہ ایران اسرائیلی کشیدگی کے باوجود پاک ایران سرحد کھلی ہے۔ایران، اسرائیلی کشیدگی پرایران میں پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو مشاورت کیلئے اسلام آباد پہنچ گئے اور انکی دفتر خارجہ میں اہم ملاقاتیں جاری ہیں۔ سفیرنے ایران میں پاکستانی زائرین کے حوالے سے حکام کو بریفنگ دی ا وربتایا گیا کہ ایران اسرائیلی کشیدگی کے باوجود پاک ایران سرحد کھلی ہے،پاک ایران فضائی سرحد بند مگر زمینی سرحد کھلی ہے،ذرائع وزارت خارجہ کے مطابق ایران میں پاکستانی زائرین کو وطن واپس لایا جا رہا ہے۔