پٹرول 6 روپے 51 پیسے ،ہائی سپیڈ ڈیزل 19روپے 39 پیسے لٹر مہنگا کردیا گیا ،ہڑتال نہیں ہوگی : پمپ مالکان

پٹرول، ڈیزل مہنگے ، گیس بحران سر اٹھانے لگا 
 پٹرول کی نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل کی 399 روپے 58 پیسے فی لٹر ہوگئی ،نوٹیفکیشن جاری ،گیس کے نئے کنکشنز پر پھر پابندی ،اطلاق گھریلو ، کمرشل صارفین پر ہوگا،وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کو سی این جی سٹیشنز کیلئیگیس دینے سے انکار کردیا :ذرائع 
اسلام آباد(بیورو رپورٹ ،مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت نیپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ،ملک بھر میں گیس بحران بڑھنے لگا جبکہ آر ایل این جی سپلائی متاثر ہونے پر نئے گیس کے کنکشنز پر پھر پابندی لگا دی گئی،۔نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 6 روپے 51 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ،پٹرول کی نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لٹر ہوگئی جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے فی لٹر ہوگئی ہے ، نئی قیمتوں کا اطلاق گزشتہ رات 12 بجے سے ہوگیاہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ آج یکم مئی کی چھٹی ہونے کی وجہ سے قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان گزشتہ روز ہی کردیاگیا۔آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے یکم سے 5 مئی تک ملک گیر ہڑتال کی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد افواہیں قرار دے دیا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق پٹرول پمپس کی بندش سے متعلق زیر گردش اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں اور ملک بھر میں تمام پٹرول پمپس معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔ ادھرترجمان اوگرا نیہے کہ سوشل میڈیا پر پٹرولیم ڈیلرز کی مبینہ ہڑتال سے متعلق جعلی خبریں گردش کررہی ہیں، کسی بھی پٹرولیم ایسوسی ایشن نے ہڑتال کا اعلان نہیں کیا ، پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی بلاتعطل جاری رہے گی۔ ملک بھر میں گیس بحران بڑھنے لگا جبکہ آر ایل این جی سپلائی متاثر ہونے پر نئے گیس کے کنکشنز پر پھر پابندی لگا دی گئی ،ذرائع کے مطابق وزارتِ پٹرولیم کی جانب سے عائد کردہ پابندی کا اطلاق گھریلو اور کمرشل دونوں اقسام کے صارفین پر ہوگا۔دوسری طرف وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کو سی این جی سٹیشنز کیلئیگیس دینے سے انکار کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق آر ایل این جی کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث وزارت پٹرولیم ڈویژن نے آر ایل این جی کے گھریلو گیس کنکشنز روک دیئے ہیں اور پہلے سے دی گئی درخواستوں پر عملدرآمد ملتوی کردیا گیا ہے ، ارجنٹ وائوچر اور ڈیمانڈ نوٹس جمع کروانے والوں کے کنکشن کا عمل بھی روک دیا گیا ہے جس کے بعد ہزاروں نئے کنکشنز التوا کا شکار ہو گئے اور صارفین شدید پریشان ہو گئے ہیں۔یاد رہے کئی سالہ پابندی کے بعدمحض چند ماہ قبل ہی حکومت نے نئے کنکشنز دینے کا عمل شروع کیا تھا۔ ذرائع وزارتِ پٹرولیم کا کہنا ہے کہ نئے کنکشنز مہنگی درآمدی گیس (آر ایل این جی)پر دیئے جا رہے تھے، جس سے صارفین کیلئے گیس کا بل عام گیس کے مقابلے میں چار گنا زیادہ آ رہا تھا،نئے کنکشن کیلئے اخراجات میں بھی غیر معمولی اضافہ کیا گیا تھا۔ ڈیمانڈ نوٹس کی فیس 6500 روپے سے بڑھا کر 23ہزار500 روپے کر دی گئی تھی جبکہ ترجیحی بنیادوں پر کنکشن کیلئے صارفین سے 25ہزار روپے اضافی وصول کئے جا رہے تھے۔ سینئر جنرل منیجر ڈسٹری بیوشن عمران یوسف کا کہنا ہے کہ آر ایل این جی سپلائی رکنے کی وجہ سے عارضی طور پر نئے کنکشن روکے گئے ہیں تاہم گیس سپلائی بہتر ہوتے ہی کنکشنز لگانے کا عمل فوری شروع کردیا جائے گا۔ ادھر وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کو سی این جی سٹیشنز کیلئے گیس دینے سے انکار کردیاہے، اس حوالے سے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم نے وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس کے بعد مزمل اسلم نے وفاقی حکومت کے جواب سے متعلق وزیراعلیٰ کو آگاہ کردیا۔ذرائع کے مطابق مزمل اسلم نیکہا کہ سی این جی بندش سے عوام کو شدید مشکلات ہیں جبکہ وفاقی وزیرپٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ ملک میں گیس کی کمی ہے، ایل این جی درآمد کے بعد اضافی گیس دینے پر غور کیا جائے گا۔