انگلینڈ کے خلاف ورلڈ کپ سیمی فائنل میں کامیابی کے بعد ارجنٹائن کی قومی ٹیم کو فیفا کی جانب سے ممکنہ تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ میچ کے بعد کھلاڑیوں نے جشن کے دوران ایک ایسا بینر اٹھایا جسے سیاسی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
میچ کے اختتام پر ارجنٹائنی کھلاڑیوں نے ہسپانوی زبان میں "لاس مالویناس سون ارجنٹیناس" تحریر شدہ بینر اٹھایا، جس کا مطلب ہے "فاک لینڈ جزائر ارجنٹائن کے ہیں"۔فاک لینڈ جزائر اس وقت برطانیہ کے زیر انتظام ہیں، تاہم ارجنٹائن کئی دہائیوں سے ان پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا آ رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 1982 میں انہی جزائر کے تنازع پر جنگ بھی ہوئی تھی، جس میں دونوں جانب سیکڑوں فوجی ہلاک ہوئے تھے۔فیفا کے قوانین کھیلوں کے مقابلوں میں سیاسی، مذہبی یا نظریاتی پیغامات کی نمائش کی اجازت نہیں دیتے۔ اسی نوعیت کے ایک واقعے پر فیفا نے 2014 میں بھی ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن پر جرمانہ عائد کیا تھا، جس کے باعث اس بار بھی ممکنہ تادیبی کارروائی کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب ارجنٹائن کی نائب صدر وکٹوریہ ویارویل نے سوشل میڈیا پر بینر کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ "فاک لینڈ ارجنٹائن کے ہیں" اور یہ معاملہ محض ایک فٹبال میچ تک محدود نہیں۔اس کے برعکس ارجنٹائن کے ہیڈ کوچ لیونل اسکالونی نے مقابلے سے قبل واضح کیا تھا کہ فٹبال اور سیاست کو ایک دوسرے سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ 1982 کی جنگ ایک افسوسناک حقیقت ہے، لیکن میدان میں کھلاڑیوں کی توجہ صرف کھیل پر ہونی چاہیے۔واضح رہے کہ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں ارجنٹائن نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد انگلینڈ کو 1-2 سے شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔