لاہور: پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی پر شدید تنقید کی اور ان کی جماعت کی حالیہ سرگرمیوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے اپنی پارٹی کو سوشل میڈیا تک محدود کر دیا ہے، اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ جیل میں بیٹھے شخص کی ٹوئٹس کو ری ٹوئٹ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے طنزاً کہا کہ "اب تو جیل میں جلسہ کروا دیا جائے کیونکہ ملاقاتوں کی تعداد 66 تک پہنچ چکی ہے۔"انہوں نے مزید کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا ذاتی باورچی مخصوص کھانا بناتا ہے، جبکہ ان کے جیل میں سہولیات کے بارے میں شکایتیں جھوٹ پر مبنی ہیں۔کے پی کے (خیبرپختونخوا) میں کرپشن اسکینڈلز پر بات کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ہر روز کرپشن کی نئی داستان سامنے آتی ہے، مگر نہ کوئی احتساب ہو رہا ہے اور نہ ہی کوئی کارروائی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ علی امین گنڈاپور کی حکومت عوامی اعتماد کھو چکی ہے، اور حالیہ سروے میں 71 فیصد لوگوں نے مریم نواز کو پنجاب میں اچھے انتظامی اقدامات پر سراہا جبکہ خیبرپختونخوا کی حکومت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔علیمہ خان کے حالیہ بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علیمہ خان جذباتی بیانات دے کر رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن ان کے بیانات حقائق سے دور ہیں۔
پنجاب میں مون سون بارشوں سے متعلق وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ شدید بارشوں کے باوجود پانی کی نکاسی بروقت کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاہور میں چند گھنٹوں کے اندر اندر نشیبی علاقوں سے بھی پانی نکال لیا گیا۔مزید برآں، انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت پنجاب نے دو روز قبل ’’پیرا فورس‘‘ کے قیام کی منظوری دے دی ہے جو آئندہ چند مہینوں میں پورے پنجاب میں کام شروع کرے گی۔ یہ فورس شفاف تفتیش، فوری کارروائی، اور تربیت یافتہ اہلکاروں پر مشتمل ہوگی، جس میں 50 ہزار سے زائد افراد شامل ہوں گے۔عظمیٰ بخاری نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ برطانوی شہریت رکھنے والے افراد کو پاکستان آنے سے کوئی نہیں روکتا، مگر سوال یہ ہے کہ انہوں نے آج تک اپنے بچوں کو پاکستانی شہریت کیوں نہیں دلوائی۔انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ عوام جان چکی ہے کہ کون ان کے ساتھ مخلص ہے اور کون صرف بیانیے کی سیاست کرتا ہے۔