وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ جو افراد پاکستان پر مشکل وقت میں یک زبان نہیں ہو سکتے، وہ پاکستانی نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جعفر ایکسپریس واقعے پر کوئی بھی پاکستانی خوش نہیں ہو سکتا اور اس واقعے کو ایک فتنہ و فساد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی کسی طور پر ملک کی خدمت نہیں کر رہی۔عظمیٰ بخاری نے خیبرپختونخوا (کے پی) کی موجودہ صورتحال پر بھی بات کی، جہاں وہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کے پی اس وقت فرنٹ لائن پر دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے اور ایک دن میں 8 مختلف مقامات پر دہشت گرد حملے ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنا حکومت کی ذمے داری ہے، اور افغان مہاجرین کے حوالے سے بھی حکومتی پالیسیوں پر بات کی۔ وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ اس وقت پورے ملک کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر لڑنا ہوگا، اور تمام سیاسی جماعتوں کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت مل کر کام کرنا ہو گا تاکہ ملک میں امن و سکون کی فضا قائم کی جا سکے۔