لاہور: پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بانی پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی توجہ صوبے کے مسائل پر نہیں بلکہ احتجاج کے انتظامات پر مرکوز ہے۔
وزیرِ اعلیٰ کی غیر فعالیت پر سوالات
عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں جاری سنگین صورتحال، خاص طور پر کرم اور پارا چنار میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے باوجود، علی امین گنڈاپور عوام کے دکھ درد میں شریک ہونے کے بجائے خاموش ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعلیٰ "ستو پی کر سوئے ہوئے ہیں" اور انہیں اپنے صوبے میں بھڑکتی آگ کی پرواہ نہیں۔
بشریٰ بی بی کا ذکر
عظمیٰ بخاری نے الزام عائد کیا کہ علی امین گنڈاپور بشریٰ بی بی کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں، جبکہ ان کے صوبے میں 40 بے گناہ افراد، جن میں بچے بھی شامل ہیں، اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
24 نومبر کے احتجاج پر تنقید
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ترجیح صوبے کے عوام کی مدد کے بجائے 24 نومبر کے احتجاج پر ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا لاہور اور اسلام آباد کو احتجاج کے نام پر بلوائیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے؟
امن و امان کی صورتحال پر مؤقف
وزیرِ اطلاعات نے واضح کیا کہ حکومت احتجاجی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے گی اور شہروں کو مفلوج کرنے کی کوششیں ناکام بنائے گی۔
اختتام
عظمیٰ بخاری نے خیبر پختونخوا حکومت اور علی امین گنڈاپور کو فوری طور پر عوامی مسائل پر توجہ دینے کا مشورہ دیا اور زور دیا کہ صوبے کے بحران پر سنجیدگی سے کام کیا جائے۔