پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین کے شہر تیانجن میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے خارجہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
اجلاس کے دوران انہوں نے پاکستان کے مستقل مؤقف اور علاقائی و عالمی سطح پر امن، تعاون اور ترقی سے متعلق مؤثر حکمت عملی پر روشنی ڈالی۔
"شنگھائی اسپرٹ" سے وابستگی کا اعادہ:
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، نائب وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب میں پاکستان کے "شنگھائی اسپرٹ" سے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی رابطے، مشترکہ خوشحالی، پائیدار ترقی اور دیرپا امن کے فروغ کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک میں بھرپور شراکت دار ہے۔
اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین پر زور:
اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں عالمی امن و استحکام کی ضمانت کے طور پر بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کو لازم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ:"تنازعات کا پرامن حل، محاذ آرائی کی سیاست سے اجتناب، اور دہرا معیار ترک کیے بغیر عالمی نظام میں حقیقی استحکام ممکن نہیں۔"
ہمسایہ ممالک سے پرامن تعلقات کی خواہش:
ڈپٹی وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن، باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے اور کسی بھی قسم کی کشیدگی یا تصادم کے بجائے بات چیت اور تعاون کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔
بیلا روس کی رکنیت کا خیرمقدم:
اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم میں بیلا روس کی شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ رکنیت تنظیم کے دائرہ کار اور اثرات میں توسیع کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ:"بیلا روس کی شمولیت تنظیم کی ہم آہنگی اور متوازن شراکت داری کو مزید وسعت دے گی۔"
اختتامی پیغام:
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان، شنگھائی تعاون تنظیم کو ایک فعال اور مؤثر علاقائی پلیٹ فارم بنانے کے لیے اپنے شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاکہ خطے کی اجتماعی صلاحیت کو عملی شکل دی جا سکے۔