پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بھارت کی حالیہ فوجی جارحیت کو علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
وہ ہانگ کانگ میں بین الاقوامی ثالثی تنظیم (IOMED) کی دستخطی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
بھارت کی جارحیت اور کشمیری تنازع
اسحاق ڈار نے کہا کہ:"ہمارے مشرقی ہمسایہ نے بین الاقوامی برادری کی جانب سے تحمل کی اپیلوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے بلا اشتعال فوجی کارروائی کی ہے، جو کہ علاقائی امن کے لیے ناقابل قبول ہے۔"انہوں نے مسئلہ کشمیر کو جنوبی ایشیا میں بدستور تنازع کی جڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق فوری طور پر نکالا جانا چاہیے۔
عالمی قانون، ثالثی اور امن پر زور
وزیر خارجہ نے زور دیا کہ:
اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی پابندی،
سلامتی کونسل کی قراردادوں کا خلوص نیت سے نفاذ،
اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری،
ہی دنیا میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کا راستہ ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:
"آج نسلِ نو کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے کا خواب پہلے سے زیادہ دور نظر آتا ہے۔"
فلسطین اور دیگر عالمی تنازعات کا تذکرہ
اسحاق ڈار نے فلسطین کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ:"مقبوضہ جموں و کشمیر سے لے کر فلسطینی علاقوں تک دیرینہ تنازعات اور غیر ملکی قبضہ عالمی امن کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔"انہوں نے کہا کہ:
پاپولزم،
الٹرا نیشنلزم،
اور یک طرفہ تسلط پسند پالیسیاں
بین الاقوامی اصولوں کی دھجیاں اڑا رہی ہیں۔
سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا ذکر
انہوں نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ:"1960ء کے سندھ طاس معاہدے جیسے بین الاقوامی معاہدوں کو مؤخر کر کے خطرناک نظیریں قائم کی جا رہی ہیں، جو عالمی انسانی حقوق اور قانونی اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔"
IOMED کی اہمیت اور پاکستان کی شمولیت
اسحاق ڈار نے ہانگ کانگ میں منعقدہ تقریب کو سفارتی تاریخ میں اہم سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ:"پاکستان کو IOMED کے بانی ارکان میں شامل ہونے پر فخر ہے۔"
انہوں نے ہانگ کانگ کو بین الاقوامی ثالثی تنظیم کا صدر دفتر بنائے جانے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا:"یہ شہر مشرق اور مغرب کو جوڑنے والا ایک متحرک اور بااثر عالمی مرکز ہے۔"
نتیجہ اور سفارتی پیغام
سینیٹر اسحاق ڈار کا خطاب عالمی برادری، اقوام متحدہ اور ثالثی کے پلیٹ فارمز کو یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان امن، قانون اور سفارتکاری پر کاربند رہتے ہوئے عالمی تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے خلاف سنجیدہ سفارتی مؤقف رکھتا ہے۔